پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس)
سینیٹ اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا

سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کی اور اہم قانون سازی کا عمل مکمل کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہم یہاں جو سوالات کرتے ہیں ان کا جواب نہیں دیا جاتا، ہم سے تفصیلات چھپائی جاتی ہیں۔

دنیش کمار نے کہا کہ وزارت خزانہ کی ایس او ایز کے افسران کی مراعات کے حوالے سے میرا سوال تھا، جس کا صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ گریڈ 21 کے افسر کے برابر مراعات دی جا رہی ہیں۔

وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ ممبران کی سوالات کا مکمل جواب دیا جاتا ہے، اگر کہیں کوئی تشنگی رہ گئی ہے تو ہم وہ بھی دینے کو تیار ہیں، یہ معاملہ کمیٹی میں جائے گا تو ہم وہاں بھی تفصیلات دینے کو تیار ہیں۔

بلال کیانی نے بتایا کہ وزارت خزانہ سے منسلک ایس او ایز کے افسران کی تعداد 21 ہے، حکومت اہل اور قابل افسران کا ان پوسٹوں پر تقرر کرتی ہے۔

سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی اہل افسر نہیں ہے جو وہاں سے کسی افسر کو تعینات نہیں کیا گیا۔

پریزائیڈنگ آفیسر نے کہا کہ یہ سوال مزید تفصیل کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیج رہے ہیں۔

آرمی ایک ترمیمی بل پیش کیا جائے گا

جاری ایجنڈے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف
آرمی ایکٹ ترمیمی بل
منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کریں گے۔

وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان ائیر فورس ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ یہ تمام بل قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کیے جا چکے ہیں۔

قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں ترامیم کثرت رائے سے منظور کی تھی۔

آرمی چیف کو اگلے پانچ برس کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی کابینہ نے گوادر عمان فیری سروس کی منظوری دےدی وفاقی کابینہ نے گوادر عمان فیری سروس کی منظوری دےدی آئینی عدالت کے ججز کی تقریب حلف برداری کیلئے تیاریاں مکمل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا سپریم کورٹ کے ججوں کے استعفے کا تحریک انصاف کا خیر مقدم،حکومت پر شدید تنقید نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ بنگلہ دیش، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق جسٹس امین الدین خان پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: رمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے ا رمی ایکٹ نے کہا کہ جائے گا

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن