Islam Times:
2026-07-24@04:40:04 GMT

سعودی سرمایہ اور امریکی دلال لابی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

سعودی سرمایہ اور امریکی دلال لابی

اسلام ٹائمز: لبنانی اخبار، الاخبار کے مطابق بن سلمان کے امریکی دورے سے خطے کے لیے کوئی بڑا تغیر ممکن نہیں، لیکن یہ دورہ دونوں فریقوں، ٹرمپ اور بن سلمان کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کی وجہ سیدھی ہے کہ ٹرمپ کو پیسہ چاہیے اور بن سلمان کے پاس بے تحاشا پیسہ ہے۔ ٹرمپ ایک تاجر، قمارباز اور پیسے کا دیوانہ شخص ہے۔ بن سلمان اس کے لیے مثالی شراکت دار ہے۔ اگرچہ ٹرمپ خود براہِ راست معاہدوں میں شامل نہ ہو، لیکن اس کے بیٹے، داماد اور کاروباری پارٹنر سب کے مفادات خلیجی تیل سے مالا مال ریاستوں سے جڑے ہوتے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب سے۔ ٹرمپ نے اپنے منصوبوں کو اپنے انتہائی مالدار رشتہ داروں اور دوستوں کے حوالے کیا ہے، جو اس کی صدارت ختم ہونے کے بعد بھی ان منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور اسی چیز کی ٹرمپ کو شدید ضرورت ہے۔ خصوصی رپورٹ:

جب کئی ممالک میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد اور اس کے خودپسند ذہن کو خوش کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں محمد بن سلمان کا واشنگٹن کا دورہ ہوا ہے۔ 18 نومبر 2025 کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محمد بن سلمان کا غیر معمولی گرمجوشی سے استقبال کیا، حتیٰ کہ صحافیوں کے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سخت سوالات پر بھی بن سلمان کا دفاع کیا۔ یہ ملاقات موسیقی، گھڑ سوار دستوں کے مارچ اور فوجی طیاروں کی پروازوں کے درمیان ہوئی اور اس موقعے پر بڑے معاشی و عسکری معاہدات کا اعلان کیا گیا، جن میں امریکہ میں سعودی عرب کی ایک ٹریلیَن ڈالر سرمایہ کاری اور ریاض کو ایف-35 جنگی طیارے دینے کے وعدے شامل تھے۔

اسٹریٹجک دوستی کے نام پر امریکی سود خوری؟
یہ دورہ امریکہ سعودیہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرنے سے زیادہ، امریکی پالیسی کی روایتی، یک‌ طرفہ اور مفاد پرستانہ نوعیت کو پھر نمایاں کرتا ہے، خصوصاً خلیجی ریاستوں کے ساتھ کیے جانے والے ہر سمجھوتوں اور تعلقات میں یہ زیادہ جھلکتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا ہے جہاں کئی "تابع" ریاستیں ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے حد سے زیادہ مبالغہ کر رہی ہیں۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ امریکہ اپنے خلیجی "اتحادیوں"،  چاہے انہیں ’’اہم غیر نیٹو اتحادی‘‘ کا لقب ہی کیوں نہ دے، ان کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ اپنے معاشی، عسکری اور جیوپولیٹیکل مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ عرب ممالک کو دیے جانے والے وعدے زیادہ تر علامتی اور کاغذی ہوتے ہیں، جن کا مقصد ان ممالک کو مزید امریکی انحصار میں جکڑنا ہے۔

قطر کی مثال: 
امریکہ کی اس پالیسی کی واضح مثال قطر ہے۔ 2022 میں واشنگٹن نے قطر کو اہم غیرنیٹو اتحادی قرار دیا تھا۔ یہ درجہ دوحہ کے لیے خاص عسکری و سلامتی فوائد کا وعدہ رکھتا تھا۔ لیکن ستمبر 2024 میں دنیا نے دیکھا کہ قطر نے اربوں ڈالر کے امریکی ہتھیار خریدے، خصوصی شاہانہ طیارہ ٹرمپ کو تحفے میں دیا، پھر بھی اسرائیل نے قطر کی سرزمین پر کھلم کھلا حملہ کیا اور امریکی دفاعی نظام پیٹریاٹ اور تھاڈ نے ایک بھی وارننگ سائرن نہیں بجایا۔ یہ اس لیے کہ یہ نظام مکمل کنٹرول امریکی افواج کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ قطر کے پاس صرف ملکیت ہے، کنٹرول نہیں۔

یعنی سازوسامان قطر کا ہے لیکن یہ جدید مشینیں اس قدر ہوشیار ہیں کہ قطر کی بات نہیں مانتیں۔ امریکہ کی واحد مستقل پالیسی اسرائیل کی فوجی برتری ہے، جس کے تحت ہر بڑے ہتھیار کی فروخت میں امریکہ لازماً جانچتا ہے کہ کہیں اسرائیل کی عسکری برتری متاثر تو نہیں ہو رہی۔ اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن، تینوں حکومتوں نے اس اصول کی سختی سے پابندی کی۔ 2016 میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 38 ارب ڈالر کی 10 سالہ فوجی امداد کا معاہدہ بھی اسی مقصد کے لیے تھا۔

سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی طرف دھکیلنا:
بن سلمان کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات کا ایک بڑا ہدف اسرائیل کے مفادات کو آگے بڑھانا ہے، خصوصاً سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل کرنے کی کوشش۔ ٹرمپ اپنے پہلے دور میں امارات اور بحرین کو اسرائیل سے معمول کے تعلقات پر مجبور کر چکا ہے۔ دوسرے دور میں اس کا سب سے بڑا ہدف سعودی عرب ہے۔ ٹرمپ نے کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ سعودی اسرائیلی نارملائزیشن مشرقِ وسطیٰ میں کامیابی کی کلید ہے۔ اور ایف-35 کی فروخت کو اسی ترقی سے مشروط قرار دیا۔ حال ہی میں جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی اہلکاروں نے بھی سعودی حکام سے کئی خفیہ و علانیہ ملاقاتیں کیں تاکہ ریاض کو اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات کی طرف دھکیلا جا سکے۔ واشنگٹن میں طاقتور اسرائیلی لابیاں سعودی عرب کو اسرائیل کے فائدے کے لیے ایک ٹول کے طور پر دیکھتی ہیں، امریکی انہیں کوئی برابر کا شراکت دار نہیں سمجھتے۔

ٹرمپ لابی کے ذاتی مالی مفادات:
لبنانی اخبار، الاخبار کے مطابق بن سلمان کے امریکی دورے سے خطے کے لیے کوئی بڑا تغیر ممکن نہیں، لیکن یہ دورہ دونوں فریقوں، ٹرمپ اور بن سلمان کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کی وجہ سیدھی ہے کہ ٹرمپ کو پیسہ چاہیے اور بن سلمان کے پاس بے تحاشا پیسہ ہے۔ ٹرمپ ایک تاجر، قمارباز اور پیسے کا دیوانہ شخص ہے۔ بن سلمان اس کے لیے مثالی شراکت دار ہے۔ اگرچہ ٹرمپ خود براہِ راست معاہدوں میں شامل نہ ہو، لیکن اس کے بیٹے، داماد اور کاروباری پارٹنر سب کے مفادات خلیجی تیل سے مالا مال ریاستوں سے جڑے ہوتے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب سے۔ ٹرمپ نے اپنے منصوبوں کو اپنے انتہائی مالدار رشتہ داروں اور دوستوں کے حوالے کیا ہے، جو اس کی صدارت ختم ہونے کے بعد بھی ان منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور اسی چیز کی ٹرمپ کو شدید ضرورت ہے۔

کھوکھلی سکیورٹی: 
سعودی عرب اربوں ڈالر دے گا لیکن اصل طاقت امریکہ کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ سعودی عرب کے پاس پہلے سے موجود امریکی ہتھیار نہ تو یمن جنگ میں اس کا کام آئے، نہ ایران کے مقابلے میں۔ اسی لیے آخرکار بن سلمان نے ایران سے تعلقات بہتر بنائے۔ اگرچہ بن سلمان کا دورۂ واشنگٹن امریکی رہنماؤں کی گرمجوشی میں لپٹا ہوا ہے، اصل سوال یہ ہے، کیا یہ تعلقات خطے کے امن و استحکام کو بڑھائیں گے یا پھر صرف امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی خدمت کرتے رہیں گے؟۔ خلیجی ممالک سمجھتے ہیں کہ امریکہ سے اپنی حیثیت بڑھانے کے لیے انہیں بڑے مالیاتی وعدے کرنے ہوں گے۔ لیکن جب تک طاقت کا توازن یک‌طرفہ ہے، یہ ممالک اسٹریٹجک پارٹنر تو کہلائیں گے، مگر عالمی پالیسی سازی پر ان کا اثر ہمیشہ محدود ہی رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور بن سلمان کے بن سلمان کا اسرائیل کے کو اسرائیل منصوبوں کو کے مفادات ٹرمپ کو کے ساتھ اور اس کے پاس کے لیے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل