Islam Times:
2026-06-03@00:14:11 GMT

ایف-35 کی سعودی عرب کو فروخت، خواب حقیقت میں بدلنے والے نہیں

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

ایف-35 کی سعودی عرب کو فروخت، خواب حقیقت میں بدلنے والے نہیں

اسلام ٹائمز: ایف-35 کی سعودی عرب کو فروخت، باوجود اس کے کہ اسے ’’بڑی ڈیل‘‘ کہا جا رہا ہے، تین بنیادی عوامل کے باعث خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کر سکتی، نمبر ایک اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنے کا امریکی قانونی اور عملی عزم دوسرا عرب ریاستوں کو ماضی میں ایف-35 جیسے سودوں کا معطل یا محدود کیا جانا اور تیسرا یہ کہ امریکی اسلحہ پالیسی کا یک‌ طرفہ اور کنٹرول مرکوز ڈھانچہ۔ اس کے علاہ امارات کا تجربہ، امریکی و اسرائیلی حکام کے واضح بیانات، اور معتبر تھنک ٹینک رپورٹس ثابت کرتی ہیں کہ اگر یہ جنگنده سعودی عرب کو مل بھی جائیں تو یہ محدود اور قابو میں رکھی گئی صلاحیتوں کے ساتھ ہوں گے اور خطے کے فوجی توازن میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں لائیں گے۔ خصوصی رپورٹ:

سعودی عرب کو ایف-35 جنگی طیاروں کی فروخت، اگرچہ بظاہر ایک بڑی اور تاریخی ڈیل دکھائی دیتی ہے، لیکن عملی طور پر تین بنیادی محدودیتوں کے باعث اس کا علاقائی طور پر طاقت کے توازن پر اثر خاصا کم محسوس ہوتا ہے۔ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکہ کے دوران وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ سعودی عرب کو جدید ایف-35 لائٹننگ-2 جنگی طیارے فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خبر فوری طور پر علاقائی و بین الاقوامی میڈیا میں بڑا موڑ اور طاقت کے توازن کو بدلنے والا اقدام قرار دی گئی۔ امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ، واشنگٹن اور تل ابیب کے حالیہ سرکاری بیانات، معتبر تھنک ٹینک رپورٹس اور ماضی کے تجربات کا سرسری جائزہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی شور و غوغا کے باوجود یہ سودا مغربی ایشیا کے فوجی توازن میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی لانے کا امکان نہیں رکھتا۔

امریکی پالیسی کا ایک ناقابلِ تبدیل اصول:
امریکہ 1968 سے اور بالخصوص 2008 میں کانگریس کے قانون کی منظوری کے بعد، اس بات کا پابند ہے کہ عرب ممالک کو فروخت ہونے والا کوئی بھی ہتھیار اسرائیل کی فوجی برتری (Qualitative Military Edge) کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہ ایک قانونی تقاضا ہے، صرف سفارتی بیان نہیں بلکہ ہر اسلحہ پیکج کی منظوری سے پہلے پینٹاگون اور محکمۂ خارجہ کی سخت جانچ سے مشروط ہوتا ہے۔ 20 نومبر 2025 کو بنیامین نتن یاہو نے نئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر اسرائیل کی معیاری فوجی برتری کے تحفظ کے اپنے واضح عزم کی توثیق کی ہے، یہ عزم کل بھی تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی تصدیق کی کہ واشنگٹن نے اس حوالے سے مکمل ضمانتیں فراہم کی ہیں۔ نتن یاہو نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا کہ یہ عزم عملی طور پر کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

یہ ضمانتیں کیسے لاگو کی جاتی ہیں: 
عرب خریداروں کو محدود اور کم صلاحیت والے ورژنز کی فراہمی، جن میں اہم الیکٹرانک وارفیئر اور کمیونی کیشن سسٹمز نہیں ہوتے۔ اہم طویل‌ بردار ہوا سے ہوا میں مار کرنیوالے میزائلوں تک رسائی نہ دینا مثلاً AIM-260 جو صرف اسرائیل اور چند قریبی اتحادیوں کے پاس ہے۔ اسی طرح سافٹ ویئر کنٹرول اور ریموٹ ڈی ایکٹیویشن کی امریکی صلاحیت برقرار رکھنا تاکہ ہنگامی حالات میں طیارے کو غیر فعال کیا جا سکے۔ فی الحال اسرائیل کے پاس 45 سے زائد F-35I (اسرائیلی مخصوص ورژن جس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شامل ہیں) موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر سعودی عرب 48 طیارے بھی حاصل کر لے تو بھی یہ اسرائیلی ورژن جیسے نہیں ہوں گے، اور ان کی فراہمی کم از کم اس دہائی کے آخر تک ممکن نہیں۔

F-35 اور عرب امارات:
اکتوبر 2020 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ وہ امارات کو 50 ایف-35 فروخت کرے گی۔ اسے بھی ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا گیا، لیکن صرف ایک سال بعد بائیڈن حکومت نے اسے معطل کیا اور ڈی فیکٹو طور پر روک دیا۔ اس کی وجوہات میں چین کے ساتھ اماراتی عسکری تعلقات پر امریکی تشویش، امریکی سیکیورٹی شرائط اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے انکار اور اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنے کی ضرورت کو مدنظر رکھنا شامل تھا۔ دسمبر 2021 میں امارات نے اعلان کیا کہ وہ امریکی تکنیکی و عملیاتی شرائط کی وجہ سے اس سودے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ ایف-35 کی فروخت کا اعلان اس کی حقیقی اور مکمل ترسیل کی ضمانت نہیں ہوتا بالخصوص اس وقت جب خریدار کے چین یا روس کے ساتھ گہرے تعلقات ہوں، جیسا کہ سعودی عرب کے معاملے میں بھی موجود ہے۔

عرب خریداروں کے بارے میں امریکی یک‌ طرفہ اپروچ:
خلیجی ممالک کے لیے امریکہ کی اسلحہ پالیسی دو بنیادوں پر قائم رہی ہے، نمبر ایک امریکی دفاعی صنعت کے لیے اربوں ڈالر آمدنی کی فراہمی اور دوسرے خریدار ملک پر اسٹریٹجک کنٹرول برقرار رکھنا۔ سعودی عرب 2010 سے اب تک 130 ارب ڈالر سے زائد امریکی اسلحہ خرید چکا ہے، لیکن ان میں سے بڑی تعداد یا تو کبھی مکمل ترسیل نہیں ہوئی یا شدید عملیاتی پابندیوں کے ساتھ ہے۔ ایف-35 کی فروخت بھی یہی نمونہ دہراتی ہے۔ یہ سودا نہ صرف لاک ہیڈ مارٹن کے لیے 142 ارب ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ ہے، بلکہ اس کے پرزوں، اپ گریڈز اور گولہ بارود کے ذریعے سعودی عرب کی طویل المدت انحصاریت بھی یقینی بناتا ہے۔ بنیادی ٹیکنالوجی ہمیشہ امریکہ کے پاس رہتی ہے اور حساس سیاسی حالات میں سپورٹ روکنے کی صلاحیت بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ اٹلانٹک کونسل نے نومبر 2025 کی رپورٹ میں لکھا کہ ایف-35 کی فروخت سعودی فضائی قوت سے زیادہ امریکی دفاعی صنعت کو طاقتور بناتی ہے اور ریاض کو اسٹریٹجک انحصار کی حالت میں رکھتی ہے۔

موجودہ صورتحال اور آپریشنل رکاوٹیں:
سب سے خوش بین اندازے کے مطابق بھی سعودی عرب 2030 سے پہلے کوئی عملیاتی ایف-35 حاصل نہیں کرے گا، کیونکہ لاک ہیڈ مارتھن کی پیداواری لائن پہلے سے بھری ہوئی ہے، سعودی پائلٹوں کی تربیت کئی سال لے گی اور امریکی کانگریس میں کسی بھی سیاسی تبدیلی سے سودے کا رک جانا ممکن ہے۔ چین کے ساتھ سعودی عسکری تعاون امریکی انٹیلیجنس کی نظر میں بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ پینٹاگون کی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی نے نومبر 2025 کی رپورٹ میں خبردار کیا کہ چین کے ساتھ سعودی میزائل پروگرام ایف-35 ٹیکنالوجی کے افشا ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے، یہی وجہ امارات کے کیس میں بھی امریکی انکار کا سبب بنی۔

ایف-35 کی سعودی عرب کو فروخت، باوجود اس کے کہ اسے ’’بڑی ڈیل‘‘ کہا جا رہا ہے، تین بنیادی عوامل کے باعث خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کر سکتی، نمبر ایک اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنے کا امریکی قانونی اور عملی عزم دوسرا عرب ریاستوں کو ماضی میں ایف-35 جیسے سودوں کا معطل یا محدود کیا جانا اور تیسرا یہ کہ امریکی اسلحہ پالیسی کا یک‌ طرفہ اور کنٹرول مرکوز ڈھانچہ۔ اس کے علاہ امارات کا تجربہ، امریکی و اسرائیلی حکام کے واضح بیانات، اور معتبر تھنک ٹینک رپورٹس ثابت کرتی ہیں کہ اگر یہ جنگنده سعودی عرب کو مل بھی جائیں تو یہ محدود اور قابو میں رکھی گئی صلاحیتوں کے ساتھ ہوں گے اور خطے کے فوجی توازن میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں لائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کی فوجی برتری طاقت کے توازن سعودی عرب کو کی فروخت کی اسلحہ کو فروخت ایف 35 کی کے ساتھ کیا کہ کے لیے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا