Express News:
2026-07-24@03:56:22 GMT

غزہ کی تباہی، انصاف کا دہرا معیار

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

جی سیون ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ کینیڈا میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں غزہ کی صورتحال، یوکرین روس جنگ سمیت دیگر امور پرگفتگو کی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو ’’ انتہائی نازک‘‘ قرار دیتے ہوئے فریقین سے مکمل احترام کی اپیل کی ہے تاکہ امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ ادھر غزہ میں ایک اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

 غزہ کی موجودہ صورتحال انسانی تاریخ کے بدترین المیوں میں سے ایک المیہ ہے، مگر افسوس کہ اسے سیاسی بیانیے اور سفارتی مفادات کی نذرکیا جا رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کی پالیسیاں اس حد تک دو رخی ہوچکی ہیں کہ ظلم کا شکار ہونے والی قوم اگر فلسطینی ہو تو دنیا کے حساس ترین ادارے بھی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ جی سیون ممالک کا حالیہ اجلاس بھی اسی دہرے معیار کی ایک واضح جھلک ہے جہاں غزہ کے حقیقی حقائق پر سنجیدہ بات کرنے کے بجائے امریکی صدر کے اس منصوبے کی اعادہ شدہ حمایت سامنے آئی جس نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بجائے مزید بے چینی، تقسیم اور کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

 یہ اجلاس اگرچہ عالمی سفارت کاری کا ایک اہم فورم تھا، مگر اس کی ترجیحات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے طاقتور ممالک کے نزدیک فلسطینی عوام کی زندگیوں کا کوئی وزن نہیں۔ یرغمالیوں کی واپسی اور ان کی باقیات کی حوالگی پر جو زور مشترکہ اعلامیے میں دیا گیا، وہ بظاہر انسانی ہمدردی کا اظہار ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی گھروں کے ملبے سے نکلی، اجتماعی قبروں کا ذکر نہ ہونا، ایک سنگین ناانصافی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی حقوق کا معیار بھی قومیت اور طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔

غزہ، جو کبھی بچوں کی ہنسی اورگھروں کے صحنوں میں گونجتی زندگیوں سے آباد تھا، آج ملبوں کا شہر بن چکا ہے۔ غزہ کے آسمان پر دھوئیں کی دھاریاں، گلیوں میں چیخیں، اسپتالوں میں بے بسی اور قبرستانوں میں تنگی، یہ سب کچھ ایک عام دن کا حصہ بن گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی نے ثابت کردیا ہے کہ طاقتور ممالک کی سرپرستی میں وہ کسی قانون،کسی معاہدے اورکسی اخلاقی قدر کو خاطر میں نہیں لاتا۔ جب عالمی برادری خاموش ہو، تو ظلم بڑھتا ہے، اور یہی غزہ میں ہو رہا ہے۔

اسرائیلی حملوں کی تازہ لہر نے نہ صرف غزہ سٹی، بیت لاہیا اور خان یونس کو نشانہ بنایا بلکہ مغربی کنارے میں بھی حالات خطرناک حد تک بگڑ چکے ہیں۔ قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے والے دو معصوم فلسطینی بچے محض ’’واقعات‘‘ کا حصہ نہیں، بلکہ وہ اس سوال کا جواب ہیں کہ عالمی قوانین کہاں ہیں؟ انسانی حقوق کہاں ہیں؟ بچوں کے تحفظ کی عالمی کونسلیں، ادارے اور تنظیمیں کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں بچوں کے حقوق پر لیکچر دینے والے ملک کہاں ہیں؟ جب تک یہ سوالات جواب نہیں پاتے، تب تک عالمی انسانی حقوق ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے جنگ بندی معاہدے کو ’’انتہائی نازک‘‘ قرار دیا ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نازکی طاقتور ممالک کی مصلحتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ غزہ کے شہری آج بھی کھنڈرات میں خوراک، پانی اور ادویات کی تلاش میں گھومتے پھر رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت ہر جگہ تباہی کے آثار ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد ریسکیو مشینری تک پہنچنے میں گھنٹوں نہیں بلکہ دن لگ جاتے ہیں۔ سول ڈیفنس کے کارکنوں کے مطابق درجنوں خاندان ابھی بھی ملبوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں، اور ہر لمحہ ان کی زندگی کا چراغ بجھ سکتا ہے۔ یہ منظر نامہ صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔

 اجتماعی قبریں چونکانے والی حقیقت نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت بن چکی ہیں۔ 51 لاشوں کا ایک ساتھ ملنا، جن میں بچے، عورتیں، بزرگ اور جوان شامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کسی کا نقصان ایک فرد کا نہیں، پورے خاندان، پورے محلے اور پورے شہر کا نقصان بن جاتا ہے، لیکن دنیا کے طاقتور ایوان ان قبروں کے سامنے بھی خاموش ہیں۔

حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرتا ہے۔ یہ ایک انسانی تبادلے کا عمل ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ سوال جڑا ہوا ہے: فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معیار یرغمالیوں کی تعداد کیوں؟ کیا فلسطینی قیدی، جن میں بچے، نوجوان اور خواتین شامل ہیں، انسان نہیں؟ کیا ان کے لیے بھی انسانی ہمدردی کا کوئی قانون موجود نہیں؟ یہ المیہ ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو دنیا کے اکثر ممالک محض ’’شماریاتی تعداد‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، مگر یرغمالیوں کو عالمی سیاست کا محور بنایا جاتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار نفرتوں کو پروان چڑھاتا ہے، جنگ کو لمبا کرتا ہے اور نفسیاتی خلیج کو وسیع کرتا ہے۔

غزہ کی تباہی صرف موجودہ نسل پر نہیں رکی، اگلی کئی نسلیں اس کے اثرات جھیلتی رہیں گی۔ تباہ شدہ تعلیمی ادارے، اسپتالوں کا انہدام، معیشت کا خاتمہ اور ذہنی و جسمانی صدمات۔ یہ سب کچھ ایسے زخم ہیں جو صرف مرہم نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب تک انصاف نہیں ملتا، تب تک امن کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے صرف بیانات کافی نہیں، عملی قدم ناگزیر ہیں۔عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکا، اگر واقعی غزہ میں امن چاہتے ہیں تو انھیں سب سے پہلے اس پالیس مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا جو اسرائیل کے ہر اقدام کو تحفظ دیتا ہے۔

طاقتور ممالک کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ انسانی جانوں کو سیاسی فیصلوں سے اوپر رکھیں، اگر یوکرین کے مسئلے پر وہ یک جہتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، تو فلسطین کے لیے خاموش کیوں؟ اگر انسانی حقوق عالمی سطح پر برابر ہیں تو پھر فلسطینی کیوں مستثنیٰ ہیں؟غزہ کے معصوم بچے جب دنیا کی اس بے حسی کو دیکھتے ہیں، تو ان کی آنکھوں میں یہ سوال جھلکتا ہے کہ کیا ان کا وجود کسی عالمی ضابطے کا حصہ نہیں؟ کیا ان کے خواب، ان کی مسکراہٹ اور ان کی زندگی کسی اخلاقی یا قانونی تحفظ کی حقدار نہیں؟ یہ سوالات صرف فلسطینی بچوں کے نہیں، پوری دنیا کے لیے آئینہ ہیں۔

آج دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مستقبل میں کس طرف کھڑی نظر آنا چاہتی ہے، اگر انصاف کی خاطر نہیں، تو کم از کم انسانیت کی خاطر ہی سہی، دنیا کو غزہ کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ فلسطینیوں کو حقِ خودارادیت دینا، ان کے گھروں پر مسلط جنگ بند کرانا، اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کے نتائج سے آگاہ کرنا، یعنی اختیاری نہیں بلکہ ضروری ہے۔

غزہ میں غذائی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قحط کے آثار واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ امداد کو روکنا، خوراک اور ادویات کو سیاسی تنازعے کا ہتھیار بنانا، انسانی حقوق کی ایسی پامالی ہے جس کی کوئی تاریخ مثال پیش نہیں کرتی۔ جب ایک پوری آبادی جان بوجھ کر بھوک، پیاس اور بے گھری کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے، تو یہ نہ صرف جنگی جرم ہے بلکہ تہذیب یافتہ دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ عالمی ادارے چیخ چیخ کر انتباہ کر رہے ہیں کہ غزہ کے بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں، لیکن عالمی طاقتوں کی سماعتوں پر جیسے لکیر کھینچ دی گئی ہو۔

ادھر انفرا اسٹرکچر کی تباہی نے صورتحال مزید المناک بنا دی ہے۔ اسپتال زمیں بوس، اسکول ملبے کا ڈھیر، پانی اور بجلی کی عدم فراہمی، صفائی کے نظام کی تباہی اور وباؤں کے بڑھتے ہوئے خدشات—غزہ کے باسیوں کے لیے زندگی ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں بدل چکی ہے۔ ایندھن کی بندش نے نہ صرف طبی امداد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے بلکہ امدادی کارروائیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ آج غزہ ایک کھلا زخم ہے، اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

 غزہ کا درد صرف فلسطینیوں کا نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی، تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنا ہوگی، کیونکہ غزہ کے ملبے میں دبی ہوئی نہ صرف انسانی زندگیاں ہیں، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات، ہمارا ضمیر اور ہمارا مستقبل بھی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک قوم، ملک یا مذہب کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری انسانیت کی آزمائش ہے۔

اگر اقوام متحدہ، عالمی برادری اور طاقتور ممالک واقعی تاریخ میں باعزت ہونا چاہتے ہیں تو انھیں آج، اسی لمحے، ظلم کے سامنے دیوار بننا ہوگا۔ ورنہ آنے والے وقت میں جب تاریخ رقم ہوگی، تو غزہ کے ملبے میں دبی انسانی چیخیں ان کے ضمیر کا ہمیشہ پیچھا کرتی رہیں گی۔ غزہ کی دھرتی انصاف کی طلبگار ہے اور جب تک انصاف نہیں ملتا، امن محض ایک خواب ہی رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طاقتور ممالک نہیں بلکہ کہاں ہیں کی تباہی ہیں بلکہ نے والے دنیا کے غزہ کی غزہ کے کے لیے کہ غزہ دیا ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا