data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اعلانیہ یومِ سیاہ کے سلسلے میں حیدر چوک سے حیدرآباد پریس کلب تک ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی میں ایس یو پی کے صدر سید زین شاہ، پی ٹی آئی کے رہنما ایڈووکیٹ فیصل مغل، مجلس وحدت المسلمین کے مولانا عمران علی دستی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سلیم ترین، ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری اسرار چانگ، سندھ بار کونسل کے رکن ایڈووکیٹ کے بی لغاری سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک پر آئینی مارشل لا مسلط کیا گیا ہے اور اس کی مخالفت کے خوف سے سندھ کے حکمرانوں نے دفعہ 144 نافذ کرکے جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ عدالت کی حیثیت ختم کرکے ایک ایسی عدالت قائم کی گئی ہے جو حکمرانوں کی مرضی کے مطابق چلائی جائے گی، پیکا ایکٹ کے ذریعے آوازوں کو دبایا گیا جبکہ 27ویں ترمیم سے عدلیہ کی قانونی اور آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک کمزور ہوتا جا رہا ہے، اسلام آباد جیسے شہر میں دہشتگردوں نے حملہ کیا، عدلیہ بھی محفوظ نہیں رہی اور سرحدوں کی صورتحال بھی خراب ہے، ملک میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، ادارے اور معیشت تباہ ہو چکے ہیں اور عوام کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کی طرح آزاد حیثیت میں رضاکارانہ طور پر اس ملک کا حصہ بنے تھے، مگر اب ہماری حیثیت ختم کرکے طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، جنہیں ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اتنا مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی بنگال کی طرح اس ملک سے علیحدہ ہونے پر سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔رہنماؤں نے الزام لگایا کہ 2024 ء کے انتخابات میں ایک تیار شدہ حکومت مسلط کی گئی، 26ویں اور 27ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو کمزور کیا گیا اور سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں کئی سیاسی رہنماؤں کو نااہل کرکے سیاست سے باہر کیا گیا، اگر اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پسند کے لوگوں کو ہی مسلط کرنا ہے تو پھر الیکشن کا ڈراما بند کرکے کھل کر مارشل لا نافذ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں اس قدر کمزور ہو چکی ہیں کہ وزرائے اعلیٰ کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہی، یہ ملک اب بندوق کے زور پر نہیں چل سکتا۔ صوبوں کو بااختیار بنا کر منصفانہ انتخابات کرائے جائیں اور مکمل اختیار دیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر مقدمات درج کرکے ڈرایا جا رہا ہے مگر ہم کسی بھی مقدمے سے گھبرانے والے نہیںہیں اور 27ویں ترمیم کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے خلاف وکلاء سمیت سیاسی و سماجی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں، ہماری جدوجہد آئین کی اصل حالت میں بحالی اور عوام و سندھ دھرتی کے حقوق کے حصول تک جاری رہے گی۔ہمیں پرامن جدوجہد سے کوئی نہیں روک سکتا۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رہنماو ں نے ں نے کہا کہ 27ویں ترمیم ترمیم کے کے ذریعے کے خلاف کیا گیا

پڑھیں:

میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟

نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت

یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔

اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔

Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.

As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.

Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h

— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026

میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔

سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔

ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔

مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔

نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔

اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟