ٹک ٹاک نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک ایک ایسا فیچر متعارف کرا رہا ہے جو صارفین کو اپنی فیڈ میں اے آئی ویڈیوز کی مقدار خود طے کرنے کی سہولت دے گا، یہ فیچر ابتدا میں محدود پیمانے پر آزمایا جائے گا اور کامیاب تجربے کے بعد عالمی سطح پر دستیاب ہوگا۔
ٹک ٹاک کے پالیسی حکام کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر اس وقت ایک ارب سے زائد اے آئی ویڈیوز موجود ہیں۔ یورپ میں ٹک ٹاک کی سیفٹی اور پرائیویسی کی ڈائریکٹر جَیڈ نیسٹر نے بتایا کہ اگرچہ بہت سے صارفین اے آئی ٹولز سے بننے والے ویڈیوز کو پسند کرتے ہیں، لیکن پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ہر صارف اپنی پسند کے مطابق ایسی ویڈیوز کی تعداد کم یا زیادہ کر سکے۔
یہ اعلان یورپین ٹرسٹ اینڈ سیفٹی فورم کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں کمپنی نے بتایا کہ روزانہ 10 کروڑ سے زائد ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، مگر اے آئی کی شرح مجموعی مواد کے مقابلے میں اب بھی محدود ہے۔ نئے فیچر کے تحت صارفین ایپ کے Manage Topics سیکشن میں جا کر “AI Generated Content” کے آپشن کے ذریعے اپنی فیڈ میں اے آئی ویڈیوز کی موجودگی کو کنٹرول کرسکیں گے۔
ٹک ٹاک کی پالیسی کے مطابق حقیقت سے مشابہت رکھنے والے اے آئی ویڈیوز پر اے آئی لیبل لگانا لازمی ہے، اور عوامی شخصیات کی ڈیپ فیک ویڈیوز پر مکمل پابندی ہے۔ لیبل کے بغیر اپ لوڈ ہونے والی اے آئی ویڈیوز کو پلیٹ فارم فوراً ہٹا دیتا ہے۔
ٹک ٹاک کے ٹرسٹ اینڈ سیفٹی شعبے کی سربراہ بری پیگم کے مطابق انسانی ٹیم اب بھی مواد کی جانچ میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اے آئی سسٹمز نقصان دہ یا گمراہ کن مواد کو تیزی سے شناخت اور حذف کرنے میں ان کی معاونت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ویڈیوز پلیٹ فارم کے مطابق ٹک ٹاک
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔