قیادت نے جس وقت بھی کال کی سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے، جے یو آئی پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی پنجاب کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آئین کی بالادستی، عوام کے حقوق اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے اسلام آباد تک مارچ کرنا پڑا تو کریں گے، ہم کسی پرتشدد تحریک کے حامی نہیں ہیں، ماضی میں ہمارا آزادی مارچ تاریخ کا سب سے بڑا پرامن مارچ تھا اور پورے احتجاج میں ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے جنرل سیکریٹری حافظ نصیر احمد احرار نے کہا ہے کہ پاکستان کا المیہ ہے کہ چند لوگ ذاتی مفادات کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، پرامن احتجاج سب کا حق ہے ہم کسی بھی پرتشدد تحریک کے حامی نہیں ہیں، قیادت نے جس وقت بھی کال کی سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے، ہم مدارس اور مساجد کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، آئمہ مساجد کو وظیفہ لینے کے نام پر جو فارم لایا گیا ہے اس کو یکسر مسترد کرتے ہیں، اسمبلی میں سینئر سیاستدان خواجہ آصف کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے ہزاروں مدارس قبضہ کی زمینوں پر بنائے گئے ہیں حالانکہ فارم 47 کی بنیاد پر اقتدار پر حکمرانوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، وہ علما کو بتائیں گے کہ قبضہ کیا ہوتا ہے، آج ضمنی انتخابات میں حکومت نے مخالف امیدواروں کے کاغذات زبردستی واپس کرائے، وزیراعلی پنجاب کے پاس فوٹو سیشن اور دکھاوے کے سوا کوئی چیز موجود نہیں ہے، علما نے ہمیشہ پاکستان کی بقا کے لیے کردار ادا کیا ہے، مولانا فضل الرحمن مرکزی شوری کے اجلاس کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے لائحہ عمل جاری کریں گے۔
حافظ نصیر احمد نے مزید کہا کہ قائد مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آئین کی بالادستی، عوام کے حقوق اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے اسلام آباد تک مارچ کرنا پڑا تو کریں گے، ہم کسی پرتشدد تحریک کے حامی نہیں ہیں، ماضی میں ہمارا آزادی مارچ تاریخ کا سب سے بڑا پرامن مارچ تھا اور پورے احتجاج میں ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹا، پنجاب بھر میں پیرا فورس کے نام پر دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے اور تجاوزات کے خاتمے کے نام پر لوگوں کا کروڑوں اربوں روپے کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رشید آباد میں معروف مذہبی شخصیت حافظ محمد سعد کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر معروف مذہبی شخصیت حافظ محمد سعد، قاری سعید، سعد جالندھری، مولانا احمد عزیز، محمد عاصم نے ساتھیوں سمیت قائد مولانا فضل الرحمن ضلعی امیر مفتی عامر محمود کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری نور خان ہانس ایڈووکیٹ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات رانا محمد سعید و دیگر ضلعی رہنما موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن جے یو آئی کریں گے کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔