سکھر،گول علی واہن ڈھلو کے مکین 15 برس سے پانی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت)سکھرکے نواحی علاقے گول علی واہن ڈھلو کے ہزاروں مکین 15 برس سے پینے کے پانی سے محروم دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقہ بدترین پانی بحران کا شکارپانی کے ذخائر چند قدم دور مگر مکین صاف پانی کی بوند کو بوند کو ترسنے پر مجبوراسپیکر سندھ اسمبلی سمیت حکام کی یقین دہانیاں مگر اب تک عملی پیشرفت صفر خواتین اور بچے دور دراز علاقوں سے پانی بھرنے پر مجبور پائپ لائن نہ ہونے کے باعث شہری مہنگے پانی اور غیرقانونی کنکشن کے عذاب میں مبتلا پینے کے پانی کی عدم فراہمی سے بیماریوں اور معاشی مشکلات میں اضافہ مکینوں کا صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں سے فوری نئی پائپ لائن بچھانے پینے کے پانی کی فراہمی کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق سکھرکے جڑواں شہرروہڑی کے علاقے گول علی واہن ڈھلو کے ہزاروں مکین گزشتہ پندرہ برسوں سے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں حیران کن طور پر یہ بڑی آبادی دریائے سندھ کے بالکل کنارے آباد ہے گھروں کے پاس سے دریا گزرتا ہے واٹر سپلائی کے بڑے تالاب بھی چند قدم کے فاصلے پر موجود ہیں جہاں سے شہر کے دوردراز علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے مگر قریبی علاقہ خود پینے کے پانی کو ترس رہا ہے گول علی واہن ڈھلو مختلف برادریوں بھٹو، گھنیو، ماچھی،سولنگی،شیخ سمیت دیگربرادریوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں آبادی پر مشتمل ہے جن میں زیادہ تر کا سیاسی جھکاؤ پیپلزپارٹی کی طرف ہے یہ علاقہ پیپلزپارٹی رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کے انتخابی حلقے میں واقع ہے اسپیکر سندھ اسمبلی کئی بار علاقے کے دورے کرچکے ہیں اور مقامی معززین کے سامنے پینے کے پانی کے مستقل حل اور نئی پائپ لائن بچھانے کی یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں تاہم مکینوں کے مطابق اب تک کوئی عملی قدم سامنے نہیں آیا علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ان کے گھروں سے چند قدم کے فاصلے پر واٹرسپلائی کے بڑے تالاب موجود ہیں جہاں سے شہر کے دوسرے علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن ہزاروں کی یہ قریبی آبادی سرکاری پائپ لائن سے محروم ہے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ پینے کے پانی کیلئے پریشان رہتے ہیں اور ہر حکومت سے صرف وعدے ہی سن رہے ہیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث خواتین،بچوں اور بزرگوں کو روزانہ کئی کلومیٹر دْور جا کر پانی بھرنا پڑتا ہے بعض شہری شادی بیاہ ،فوتگی یادیگر موقعوں پر پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ غریب گھرانے شہر کے دوسرے علاقوں کو جانے والی لائنوں سے غیرقانونی کنکشن لگا کر پانی حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں پانی نہ ملنے سے لوگوں کی زندگیوں میں مشکلات کے انبارلگے ہوئے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ پینے کا صاف پانی نہ ہونے سے بچوں اور خواتین میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں گھریلو کام نمٹانا مشکل پانی خریدنے کے اخراجات سے غریب خاندان مزید مشکلات کا شکار گرمیوں میں حالات انتہائی سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ،صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ،چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ،چیئرمین میونسپل کمیٹی روہڑی سید میریعقوب علی شاہ اور وزیر بلدیات کے فوکل پرسن عرفان علی داؤد پوتو سے مطالبہ کیا ہے کہ گول علی واہن ڈھلو کے باسیوں کی پندرہ سالہ محرومی کا خاتمہ کیا جائے مکینوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں فوری طور پر نئی پائپ لائن بچھائی جائے تاکہ پانی جیسی بنیادی سہولت انہیں مستقل بنیادوں پر میسر آسکے کیونکہ یہ سیاسی وابستگی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پینے کے پانی سندھ اسمبلی پائپ لائن مکینوں نے پانی کی
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔
اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :