سردیوں میں دہی کھانے سے زکام کا خطرہ: حقیقت یا افسانہ؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیوں میں دہی کھانے سے زکام یا فلو ہونے کے حوالے سے عام تاثر کافی عرصے سے گھریلو سوچ کا حصہ رہا ہے، لیکن سائنسی تحقیق اس بات کی تصدیق نہیں کرتی۔
ماہرین کے مطابق دہی ایک غذائیت سے بھرپور خوراک ہے جو جسم پر متعدد مثبت اثرات ڈالتی ہے، البتہ اس کے استعمال میں درجہ حرارت اور وقت اہم عوامل ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں دہی کھانے سے زکام یا فلو نہیں ہوتا کیونکہ یہ بیماری صرف وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اور دہی میں کوئی ایسا وائرس موجود نہیں جو انسان کو بیمار کرے۔
تاہم، فریج سے نکالی گئی انتہائی ٹھنڈی دہی فوراً کھانے سے کچھ لوگوں کے حلق، ناک اور گلے کی جھلی میں جلن یا خراش محسوس ہو سکتی ہے، جس سے وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں “زکام” ہو گیا ہے۔ لیکن اگر دہی کمرے کے درجہ حرارت پر ہو تو یہ مسئلہ پیش نہیں آتا۔
2019 میں جرنل آف انوائرمنٹل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دہی میں موجود پروبائیوٹکس آنتوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جس سے اوپری سانس کی نالی میں انفیکشن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح دہی، اگر درست طریقے سے کھائی جائے، تو جسم کا مدافعتی نظام مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
زیادہ تر صحت مند افراد میں دہی بلغم پیدا نہیں کرتی، البتہ اگر کسی شخص کو پہلے سے سردی، گلے یا سانس کی نالی میں مسئلہ ہو، تو ٹھنڈی دہی کے استعمال سے موجود بلغم گاڑھا محسوس ہو سکتا ہے، جس سے حلق بند ہونے یا خارش کا احساس بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دہی کو کھانے سے تقریباً 20–30 منٹ پہلے فریج سے نکال کر ہلکا نیم گرم کر لیا جائے تاکہ یہ کمرے کے درجہ حرارت پر آ جائے۔
ماہرین ایک سنہری اصول کے تحت دہی کے اعتدال میں استعمال کی بھی تاکید کرتے ہیں۔ روزانہ 1–2 سرونگز کافی ہیں، اور دن یا دوپہر کا وقت اسے کھانے کے لیے سب سے مناسب سمجھا جاتا ہے۔ سردیوں میں انتہائی ٹھنڈی دہی یا بہت کھٹی اور چکنائی والی دہی سے گریز کرنا چاہیے تاکہ جسم کو دہی کے فوائد حاصل ہوں اور کسی قسم کی تکلیف سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سردیوں میں کھانے سے میں دہی
پڑھیں:
سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
میاں محمد اشفاق: سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں ڈھلم بلگن کے مقام پر نالہ ایک کا بند ٹوٹنے سے پانی قریبی زرعی اراضی میں داخل ہو گیا، جس کے باعث دھان کی سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
مقامی شہریوں کے مطابق پانی تیزی سے کھیتوں میں پھیل رہا ہے، جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بند مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تاحال انتظامیہ یا متعلقہ محکموں کا کوئی اہلکار امدادی کارروائی کے لیے موقع پر نہیں پہنچا۔
کسانوں اور علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بند کی فوری مرمت اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ زرعی زمینوں اور فصلوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی