یوکرین امن معاہدہ ایک ہفتے میں ممکن ہے، پولیٹیکو
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار کے مطابق ہم یورپیوں کی پرواہ نہیں کرتے، مسئلہ یہ ہے کہ یوکرین اسے قبول کرے، یہ معاہدہ منطقی ہے اور ان کے خیال میں یوکرین کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی جریدے پولیٹیکو نے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس روس کے ساتھ ایک نئے امن معاہدے کے اعلان کے قریب ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ معاہدہ یوکرین کی ساڑھے تین سالہ جنگ کو ختم کر دے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ توقع ہے اسی ماہ کے آخر تک یا ممکن ہے اسی ہفتے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار کے مطابق ہم یورپیوں کی پرواہ نہیں کرتے، مسئلہ یہ ہے کہ یوکرین اسے قبول کرے۔ پولیٹیکو کے مطابق وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال، خصوصاً زیلنسکی کے کرپشن اسکینڈلز اور محاذِ جنگ کی حالت کے مدنظر امریکہ ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ زیلنسکی کو اس معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تاہم امریکی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ منطقی ہے اور ان کے خیال میں یوکرین کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک 28 نکاتی روڈ میپ (امن روڈ میپ) تیار کیا ہے جس کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا خاتمہ ممکن بنانا ہے۔ اس منصوبے میں یوکرین کے لیے امن و سیکیورٹی گارنٹی شامل کی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ یورپ کی سلامتی اور مستقبل میں امریکا کے روس و یوکرین کے ساتھ تعلقات کو بھی اس روڈ میپ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس یوکرین کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔