ہرنائی ،بیماریوں سے بچائو کی ویکسینیشن مہم کے حوالے سے آگاہی سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہرنائی ( آئی این پی )محکمہ صحت کے زیر اہتمام خسرہ اور روبیلا(ایم آر)بیماریوں سے بچائو کی ویکسینیشن مہم کے حوالے سے آگاہی سیمینار ڈی ایچ او آفس ہال ہرنائی میں منعقد ہوا۔ مہم 17سے 29نومبر تک جاری رہے گی۔ سیمینار کی صدارت ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالراحمن ہاشمی نے 12 روزہ مہم کے حوالے سے شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی ۔تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین ،ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ہرنائی ڈاکٹر رشید شاہ،پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر عالمگیر خان اچکزئی، ای پی آئی پروشنل آفیسر محمود بازئی ،کمیونیکیشن آفیسر یونیسیف سمیع اللہ این سٹاپ ڈاکٹر ہمایت،مائنٹرنگ آفیسر محمد یاسین، ڈی ایس وی ای پی آئی غلام فاروق ترہن، اے ایس وی شاہ حسین، الائیڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عہدیداروں حاجی مسعود خان، حاجی محمد ندیم،حاجی عجب خان، محمد عرفان، سول سوسائٹی ویکسینیٹر۔محکمہ صحت کے سٹاف، سول سائٹی، بلدیاتی نمائندگان اور پریس کلب ہرنائی رجسٹرڈ کے صدر ودیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خسرہ اور روبیلا سے بچا کے بارہ روزہ مہم کی کامیابی کیلئے ضلع ہرنائی کے قبائلی معتبرین، وعلما کرام، اساتذہ، سول سوسائٹی، میڈیا سمیت معاشرے کے ہرفرد اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور اپنے بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ بنائے انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ مہم کی کامیابی کیلئے تمام وسائل کو بروئے کارلائے گی اور مہم کو کامیاب بنائے گے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے محکمہ صحت کے آفیسران اور فیلڈ میں کام کرنے والے پر زور دیا کہ وہ مائیکر پلان کے مطابق خسرہ اور روبیلا مہم کو چلائے تاکہ کوئی بھی بچہ رہ نہ جائے سیمینار سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالراحمن ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خسرہ اور روبیلا مہم کی کامیابی کیلئے معاشرتی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں سے کہا کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ہر بچے تک یہ سہولت پہنچ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع ہرنائی کے 14 یونین کونسلوں میں تقریبا 19ہزار سے زائد بچوں کو 6 ماہ سے 5 سال کی عمر تک ایم آر ویکسین دی جائے گی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالراحمن ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم آر ویکسین پہلے سے تسلیم شدہ اور محفوظ ہے جو بچوں کو نو ماہ اور 15 ماہ کی عمر میں دی جاتی ہے، اس لیے والدین کسی بھی قسم کی افواہوں پر یقین نہ کریں انہوں نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خسرہ اور روبیلا سے بچا کی یہ مہم ایک قومی فریضہ ہے۔ اس مہم کو کامیاب بنا کر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خسرہ اور روبیلا کرتے ہوئے کہا محکمہ صحت کے بیماریوں سے ڈپٹی کمشنر انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔