حیدرآباد میں موسم سرد ہوتے ہی گیس کی بندش ،شہریوں کو مشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ سردیوں کے آتے ہی سوئی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ موسم سرما میں جب سوئی گیس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو محکمہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بھی اضافہ کردیا جاتا ہے اس کے علاوہ کم پریشر کی وجہ سے گھروں میں خواتین ہوٹلوں اور گیس سے چلنے والی اشیاء کے استعمال کرنیو الوں کیلیے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف تو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایل پی جی کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے تو دوسری طرف گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کی وجہ سے پکوان سینٹر، ہوٹلوں اور گھروں میں عام لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اسی طرح بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بھی شہری پریشان ہیں، ٹھنڈا موسم ہونے کی وجہ سے بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے اس کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کردیا گیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں، اس کے ساتھ ہی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے حیدرآباد کی صنعتیں، مل، کارخانے، فیکٹریوں میں بھی پیداواری عمل متاثر ہوا ہے جس سے شفٹیں کم کردی گئی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔