data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبے کے مطالبے اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے اور عدالت میں جانے کا اعلان کردیا۔ اگر ایوان اور عدالتیں ہمیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو سڑکوں پر جائیں گے ، عوام سے بات کریں گے، کراچی میں 17 سال کا قبضہ اب ختم ہونا چاہیے۔ خالد مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت ہے، صوبہ انتظامی یونٹ ہوتا ہے، ا?بادی کے ساتھ بڑھنا چاہیے، یہ ایم کیو ایم کا مطالبہ نہیں آئین کا تقاضہ ہے۔ ہم سندھ کے شہری علاقوں کے تمام مسائل پر ایوان میں بھی آواز اٹھائیں گے، قانون کا دروازہ بھی کھٹکھٹایں گے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مرکز بہادر آباد میں سینئر مرکزی رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار، محترمہ نسرین جلیل، سید امین الحق، سینیٹر فیصل سبزواری ،گورنر سندھ اور اراکینِ مرکزی کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء پر دانستہ عملدرآمد نہ کرنا کراچی پر قبضے کی سازش ہے جس کو ایم کیو ایم کارکنان کی جدوجہد اور عوامی تائید سے ناکام بنا دے گی، کراچی سندھ کے بجٹ کا ستانوے فیصد محصول ادا کرتا ہے مگر سندھ کی صوبائی حکومت شہر میں عوامی فلاح و بہبود میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکمران آئین کی من پسند شقوں پر عمل کرتے ہیں، جب انکی مرضی پوری نہ ہو تب آئین کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں، ایسی جمہوریت کی پاکستان کو ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام شہریوں کو مستفید نہ کرسکیں، مہذب معاشروں میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر جمہوریت اور قوم کا بھلا کیا جاتا ہے یہی واحد راستہ ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کو یقنی بناتا ہے، آئین کے آرٹیکل 140/اے پر عملدرآمد نہ کرنا آئین سے غداری کے زمرے میں آتا ہے، اس وقت سوائے ایک کے تمام سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر متفق ہیں، ہم اٹھارویں ترمیم پر من و عن عملدرآمد کا مقدمہ ایوان اور عدالتوں میں لے کر گئے ایوان اور عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیں تو ہم سڑکوں پر عوامی عدالت لگائیں گے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم