وزیراعظم شہباز شریف سے امریکا میں مقیم سکھ تنظیم کے صدرجسدیپ سنگھ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکا مقیم سکھ برادری کی تنظیم کے صدر کی وزیر اعظم سےملاقات ہوئی۔ملاقات میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ساجد تارڑ بھی موجود تھے، وزیراعظم نے پاکستان آمد پر جسدیپ سنگھ کو خوش آمدید کہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سکھوں کے بہت سی مقدس مذہبی مقامات موجود ہیں جہاں پر دنیا بھر سے سکھ برادری کے افراد مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں اور پاکستان ان کی مہمان نوازی کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان آنے والے سکھ برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، یہ ہمارے لئے فخر کا باعث ہے کہ پاکستان سکھ برادری کے مقدس مقامات اور گردواروں کی دیکھ بھال اور یہاں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم پاکستان میں مقیم سکھ برادری کی فلاح و بہبود اور دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دیں گے۔
سمندر پار پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ملک کی ترقی و خوشحالی اور اس کا نام روشن کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جسدیپ سنگھ نے پاکستان میں ان کی میزبانی اور سکھ یاتریوں کی مہمان نوازی پر وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔