سندھ حکومت کالعدم دہشتگرد جماعتوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، علامہ حیات عباس نجفی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر شیعہ کلنگ کا یہ سلسلہ نہیں روکا اور قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی تو ملت جعفریہ کے تمام اکابرین و جماعتیں حکومت کے خلاف سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ شیعہ تاجر شبیر قاسم کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، شیعہ شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جانا قانون نافذ کرنے والوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور قابل تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں تین شیعہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کا شانہ بنایا گیا لیکن سیکورٹی اداروں کی جانب سے آج تک کو مجرم گرفتار نہیں ہوا، افسوسناک طور پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
علامہ حیات عباس نجفی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اور وزیر داخلہ اہل تشیع تاجروں کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کب ایکشن لیں گے، سندھ حکومت خود شہر قائد میں دہشتگرد کالعدم جماعتوں کی پشت پناہی اور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر شیعہ کلنگ کا یہ سلسلہ نہیں روکا اور قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی تو ملت جعفریہ کے تمام اکابرین و جماعتیں حکومت کے خلاف سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے خلاف آپریشن اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ حکومت قاتلوں کی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔