یونیسیف کے وفدکاBHYاسپتال کادورہ،ویکسینیشن سینٹرکاجائزہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) یونیسیف کے ایک وفد نے برتھ ڈوز ویکسی نیشن پروگرام اور 24/7 امیونائزیشن سروس ڈیلیوری انیشی ایٹو پر اپنی اسٹریٹجک صف بندی کے حصے کے طور پر بی ایچ وائی اسپتال کا دورہ کیا۔ وفد کے ارکان میںچیف ہیلتھ، یونیسیف پاکستان کنٹری آفس ڈاکٹر گنٹر بوسری، پولیو ٹیم کی چیف، یونیسیف پاکستان میلیسا کورکم، امیونائزیشن آفیسر، یونیسیف ڈاکٹر زید بن سعید، امیونائزیشن آفیسر، سندھ ڈاکٹر کمال ،اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سائوتھ ڈاکٹر لبنیٰ اوراربن ہیلتھ کوآرڈینیٹر، ساؤتھ سبین شامل تھیں۔ ایڈمنسٹریٹربی ایچ وائی اسپتال ایاز حسن رضی نے وفد کا استقبال کیا۔وفد کی جا نب سے او پی ڈی بلاک کا دورہ کیا گیا جہاں ویکسینیشن سینٹر کا جائزہ لینے کے ساتھ ورک فلو، مریض سے ڈیلنگ، دستاویزات، اور کولڈ چین کی تیاری ، موجودہ سروس تھرو پٹ اور رکاوٹوں کے بارے میں فرنٹ لائن ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ایڈمنسٹریٹر نے وفد کو محکمانہ ایس او پیز ،بڑے پیمانے پر صحت عامہ کے اقدامات کے لیے تیاری سمیت مختلف امور پر تفصیلی پریذینٹیشن دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔