سندھ حکومت کا فیصلہ: خواتین کی سہولت کے لیے مزید پنک بسیں چلانے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے ٹرانسپورٹ نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، اور اس سلسلے میں خواتین کے لیے مزید پنک بسوں کا آغاز کیا جا رہا ہے جو بی آر ٹی کے مختلف روٹس پر جلد نظر آئیں گی۔
گرین لائن منصوبے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی بی آر ٹی میں خواتین کے لیے مخصوص پنک بسیں پہلے ہی چل رہی ہیں، جبکہ بی آر ٹی گرین لائن میں بھی خواتین کے لیے علیحدہ اسپیس مختص کی جائے گی تاکہ انہیں محفوظ اور باوقار سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
سینیئر وزیر کے مطابق نمائش سے سرجانی تک پنک بی آر ٹی سروس شروع ہو چکی ہے، جب کہ ایدھی اورنج لائن بی آر ٹی پر بھی جلد پنک بسیں چلائی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈبل ڈیکر بسوں کی ایک نئی کھیپ اگلے ہفتے کراچی پہنچنے والی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ٹرانسپورٹ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے خصوصی بائیکس تیار کر رہا ہے، جو انہیں مفت فراہم کی جائیں گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید مثبت اعلانات جلد سامنے آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر کے 21 لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ انہی کوششوں کا تسلسل ہے، جب کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز بھی سابق صدر آصف علی زرداری نے خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ہی کیا تھا۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت کسانوں کو مفت کھاد فراہم کر رہی ہے، جس سے گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ بعض تکنیکی معاملات حل طلب ہیں، جنہیں جلد نمٹایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کے لیے اوپن بریفنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے اور فرد کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے وزیراعظم اور صوبہ پنجاب و خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی کہ اپنے اپنے صوبوں میں بھی خواتین کے لیے پنک بس سروس شروع کریں، کیونکہ یہ اقدام خواتین کے محفوظ سفر اور بااختیار بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل خواتین کے لیے سندھ حکومت انہوں نے بی آر ٹی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔