شرجیل میمن کا ٹرانسپورٹ نظام بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے، اس سلسلے میں خواتین کے لیے مزید پنک بسیں شروع کی جا رہی ہیں جو بی آر ٹی کے مختلف روٹس پر نظر آئیں گی۔
گرین لائن منصوبے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کی پہلی بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسز چلائی جا رہی ہیں اور بی آر ٹی گرین لائن میں بھی خواتین کے لیے الگ اسپیس مختص کی جائے گی۔
سینیئر وزیر نے بتایا کہ نمائش سے سرجانی تک پنک بی آر ٹی سروس شروع ہو چکی ہے جبکہ ایدھی اورنج لائن بی آر ٹی میں بھی جلد پنک بسیں چلائی جائیں گی۔
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ اگلے ہفتے ڈبل ڈیکر بسیں بھی کراچی پہنچ جائیں گی جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کے لیے بائیک تیار کر رہا ہے جو انہیں مفت فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم فیصلے کر رہی ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید خوشخبریاں جلد ملیں گی۔
شرجیل انعام میمن نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت کسانوں کو مفت کھاد فراہم کر رہی ہے، جس سے گندم کی کاشت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ کچھ حل طلب معاملات موجود ہیں تاہم انہیں جلد نمٹایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اوپن بریفنگ دی جاتی ہے، معاشرے کے ہر طبقے اور فرد کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 21 لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کے نام کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا جو خواتین کو بااختیار بنانے کی اہم مثال ہے۔
وزیر اطلاعات نے وزیراعظم اور خیبر پختونخوا و پنجاب کے وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے صوبوں میں پنک بس سروس شروع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواتین کے نے کہا کہ بتایا کہ بی آر ٹی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔