ایچ پی وی ویکسین خواتین کو مستقبل کی حمل پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسکول کی عمر میں لگنے والی ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں ایک تازہ تحقیق نے نہایت اہم نتائج دیے ہیں جن کے مطابق یہ ویکسین بعد کی زندگی میں خواتین کو حمل کے دوران متعدد سنگین مسائل سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
اس تازہ تحقیق میں اس بات کا سائنسی طور پر جائزہ لیا گیا کہ کیا بچپن میں کی جانے والی ویکسینیشن حمل کے برسوں بعد ماں اور بچے دونوں کی صحت پر کوئی اثر چھوڑتی ہے اور حیرت انگیز طور پر نتائج مثبت ثابت ہوئے۔
ایچ پی وی ویکسین عام طور پر خواتین کو کینسر سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، مگر نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ یہ ویکسین حمل میں پیش آنے والی پیچیدگیوں کو بھی کم کر سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ایبرڈین کے سائنس دانوں نے 14 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 2006 سے 2020 کے دوران 9 ہزار 200 سے زائد خواتین کا جائزہ لیا۔ ان خواتین میں سے کئی نے اسکول کے زمانے میں ایچ پی وی کے خلاف ویکسینیشن کروائی تھی، جبکہ کچھ خواتین غیر ویکسین شدہ تھیں۔
ماہرین نے دونوں گروپس کے حمل کے دوران لاحق ہونے والے مسائل کا باقاعدہ موازنہ کیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ ویکسینیشن کسی حد تک حفاظتی کردار ادا کرتی ہے یا نہیں۔ تحقیق کے نتائج نے واضح کیا کہ ویکسین شدہ خواتین میں وہ خطرات نمایاں طور پر کم تھے جو حاملہ خواتین کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 24 ہفتوں کے حمل کے بعد جو سنگین پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں، اُن میں پری اکلیمپسیا، پانی کا وقت سے پہلے بہہ جانا (ارلی واٹر بریکنگ) اور حمل کے درمیانی یا آخری مہینوں میں خون بہنے جیسے مسائل شامل ہیں۔ ویکسین شدہ خواتین میں ان تمام پیچیدگیوں کی شرح غیر ویکسین شدہ خواتین کی نسبت خاصی کم رہی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ صحت کے شعبے میں ایک نئی بحث کے دروازے بھی کھولتے ہیں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین کا فائدہ صرف وائرس سے بچاؤ تک محدود نہیں بلکہ یہ مستقبل کی تولیدی صحت پر بھی اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔
تحقیق کی ٹیم کا حصہ رہنے والی ڈاکٹر اینڈریا وولنر نے بتایا کہ ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ ویکسین لگوانے والی خواتین میں حمل کی متعدد عام اور خطرناک پیچیدگیوں کے امکانات نمایاں حد تک کم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دریافت نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے اہم ہے بلکہ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ بروقت ویکسینیشن نوجوان لڑکیوں کی طویل مدتی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر وولنر کے مطابق یہ نتائج عالمی سطح پر پالیسی سازوں کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں کہ وہ ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام کو صرف وائرس سے بچاؤ کی حکمت عملی نہیں بلکہ خواتین کی مجموعی تولیدی صحت بہتر بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر بھی دیکھیں۔
یہ تحقیق یورپین جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی اینڈ ری پروڈکٹیو بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے، جس کے بعد عالمی طبی ماہرین بھی اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ویکسینیشن کے طویل مدتی اثرات کو سمجھ کر مستقبل میں حاملہ خواتین کی صحت بہتر بنانے کے لیے مزید جامع پروگرام ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایچ پی وی ویکسین خواتین میں ویکسین شدہ خواتین کو کہ ویکسین سکتی ہے حمل کے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔