data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسکول کی عمر میں لگنے والی ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں ایک تازہ تحقیق نے نہایت اہم نتائج دیے ہیں جن کے مطابق یہ ویکسین بعد کی زندگی میں خواتین کو حمل کے دوران متعدد سنگین مسائل سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

اس تازہ تحقیق میں اس بات کا سائنسی طور پر جائزہ لیا گیا کہ کیا بچپن میں کی جانے والی ویکسینیشن حمل کے برسوں بعد ماں اور بچے دونوں کی صحت پر کوئی اثر چھوڑتی ہے اور حیرت انگیز طور پر نتائج مثبت ثابت ہوئے۔

ایچ پی وی ویکسین عام طور پر خواتین کو کینسر سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، مگر نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ یہ ویکسین حمل میں پیش آنے والی پیچیدگیوں کو بھی کم کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایبرڈین کے سائنس دانوں نے 14 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 2006 سے 2020 کے دوران 9 ہزار 200 سے زائد خواتین کا جائزہ لیا۔ ان خواتین میں سے کئی نے اسکول کے زمانے میں ایچ پی وی کے خلاف ویکسینیشن کروائی تھی، جبکہ کچھ خواتین غیر ویکسین شدہ تھیں۔

ماہرین نے دونوں گروپس کے حمل کے دوران لاحق ہونے والے مسائل کا باقاعدہ موازنہ کیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ ویکسینیشن کسی حد تک حفاظتی کردار ادا کرتی ہے یا نہیں۔ تحقیق کے نتائج نے واضح کیا کہ ویکسین شدہ خواتین میں وہ خطرات نمایاں طور پر کم تھے جو حاملہ خواتین کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 24 ہفتوں کے حمل کے بعد جو سنگین پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں، اُن میں پری اکلیمپسیا، پانی کا وقت سے پہلے بہہ جانا (ارلی واٹر بریکنگ) اور حمل کے درمیانی یا آخری مہینوں میں خون بہنے جیسے مسائل شامل ہیں۔ ویکسین شدہ خواتین میں ان تمام پیچیدگیوں کی شرح غیر ویکسین شدہ خواتین کی نسبت خاصی کم رہی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ صحت کے شعبے میں ایک نئی بحث کے دروازے بھی کھولتے ہیں کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین کا فائدہ صرف وائرس سے بچاؤ تک محدود نہیں بلکہ یہ مستقبل کی تولیدی صحت پر بھی اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔

تحقیق کی ٹیم کا حصہ رہنے والی ڈاکٹر اینڈریا وولنر نے بتایا کہ ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ ویکسین لگوانے والی خواتین میں حمل کی متعدد عام اور خطرناک پیچیدگیوں کے امکانات نمایاں حد تک کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دریافت نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے اہم ہے بلکہ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ بروقت ویکسینیشن نوجوان لڑکیوں کی طویل مدتی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر وولنر کے مطابق یہ نتائج عالمی سطح پر پالیسی سازوں کو بھی نئی سمت دے سکتے ہیں کہ وہ ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام کو صرف وائرس سے بچاؤ کی حکمت عملی نہیں بلکہ خواتین کی مجموعی تولیدی صحت بہتر بنانے کے ایک اہم اقدام کے طور پر بھی دیکھیں۔

یہ تحقیق یورپین جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی اینڈ ری پروڈکٹیو بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے، جس کے بعد عالمی طبی ماہرین بھی اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ویکسینیشن کے طویل مدتی اثرات کو سمجھ کر مستقبل میں حاملہ خواتین کی صحت بہتر بنانے کے لیے مزید جامع پروگرام ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایچ پی وی ویکسین خواتین میں ویکسین شدہ خواتین کو کہ ویکسین سکتی ہے حمل کے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار