دہشت گردوں کی معاونت ختم نہ کرنے تک افغانستان کیساتھ تجارت بند رہے گی‘دفتر خار جہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی معاونت ختم نہ ہونے تک افغانستان کے ساتھ تجارت بند رہے گی۔ جمعے کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس افغانستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، افغانستان نے پاکستان کے تاجروں اور تجارت پر حملے کیے، پاکستان اپنے شہریوں کی زندگی کی قیمت پر افغانستان کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتا‘ پاکستان نے ہمیشہ سیکورٹی اور تجارت کو الگ رکھنے کی کوشش کی مگر افغانستان سے پاکستان پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ترکیہ صدر کے ثالثی وفد پر بیان کا خیر مقدم کرتا ہے، ترکیہ کے وفد کا دورہِ پاکستان، نائب صدر کے غیر ملکی دوروں کی وجہ سے التوا کا شکار ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ کئی ممالک نے پاک افغان ثالثی کی بات کی ہے‘ افغانستان میں ہمارا سفارت خانہ اور افغانستان کا یہاں سفارت خانہ کھلا ہے‘ دونوں سفارت خانوں سے مواصلاتی چینل کھلے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ پر امریکی کانگریس کی تحقیقی رپورٹ جاری ہوئی ہے، پاک بھارت تناؤ میں کمی اور غزہ جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جارحیت اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بھارت میں لال قلعہ بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔ زیادہ تر گرفتار شدہ افراد کا تعلق بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہے‘ بھارت مسلسل مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں کر رہا ہے‘ پاکستان عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔حسینہ واجد کو سنائی گئی پھانسی کی سزا پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ بنگلادیش کا اندرونی معاملہ ہے‘ بنگلا دیش کا اپنا آئین اور قانون موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان کے ساتھ ساتھ تجارت نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔