بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویویدی کے حالیہ بیان نے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ  آپریشن سندور محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک دھرم یُدھ (مذہبی جنگ) تھا۔ اس بیان کو ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں فوج کو ’مذہبی رنگ میں رنگنے‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بیان نے بھارتی فوج کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھا دیے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کو’دھرم یُدھ ‘ قرار دینا بھارت کی طویل عرصے سے قائم غیر سیاسی اور غیر مذہبی فوجی روایت سے انحراف ہے۔
رپورٹس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی الفاظ کا استعمال فوج کے اندر نظریاتی جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ عسکری بیانیہ سیاسی نظریات یا اکثریتی مذہبی سوچ سے متاثر ہو رہا ہے؛ اور فوج جیسے ادارے کی غیر جانب داری متاثر ہو سکتی ہے۔

آپریشن ’سِندور‘ کے نام پر بھی اعتراضات

تنقید کرنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’سِندور‘ کا نام ہندو مذہبی علامت سے منسوب ہے، جس سے عسکری مہم کو مذہبی یا ثقافتی شناخت کے ساتھ جوڑنے کا تاثر پیدا ہوا۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس نام کو ’سفرو نائزیشن‘ یعنی ’ہندوتوا رنگ‘ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

نماز کے دوران کارروائی نہ کرنے کے بیان پر بھی ردِعمل

جنرل دویویدی نے مزید کہا کہ فوج نے آپریشن کے دوران  کبھی نماز کے وقت حملہ نہیں کیا۔جسے مخالفین نے ’بین السطور اسلاموفوبیا‘ قرار دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے جملے جنگ کو مذہبی زاویے سے پیش کرنے کا تاثر دیتے ہیں، جو تنازع کو علاقائی کے بجائے مذہبی رنگ دینے کے مترادف ہے۔

بیان سیاسی فائدے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذہبی یا جذباتی بیانات سیاسی ماحول میں ہندو ووٹر بیس کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عسکری کارروائیوں کو مذہبی بیانیے سے جوڑنا انتخابی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومتی یا فوجی ردِعمل؟

تا حال بھارتی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا، تاہم معاملہ تیزی سے ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان