، سری نگر پولیس اسٹیشن میں دھماکا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سری نگر کے پولیس اسٹیشن میں دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور حکام نے ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا۔ خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی مقامی پولیس نے بتایا کہ سری نگر میں واقع پولیس اسٹیشن پر دھماکا ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد نوگام پولیس اسٹیشن کے کمپاؤنڈ پر آگ لگی اور فائر ٹینڈرز جائے وقوع کی طرف روانہ کر دیے گئے۔ مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ نوگام پولیس اسٹیشن پر دھماکا ہوا ہے اور دیگر رپورٹس میں بتایا گیا کہ پولیس اسٹیشن کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس اسٹیشن نے بتایا کہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔