راجکمار راؤ اور پترالیکھا کے گھر بیٹی کی پیدائش، شادی کی چوتھی سالگرہ یادگار بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ممبئی(نیوز ڈیسک)بالی ووڈ جوڑی راجکمار راؤ اور پترالیکھا کی چوتھی شادی کی سالگرہ اس وقت مزید خاص بن گئی جب 15 نومبر کو ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔
’سٹی لائٹس‘ کے اس جوڑے نے خوشی کی یہ خبر انسٹاگرام پر ایک مشترکہ پوسٹ کے ذریعے دی اور اپنی بیٹی کو خدا کی سب سے بڑی نعمت قرار دیا۔
راجکمار راؤ نے لکھا کہ “یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو خدا نے ہمیں ہماری چوتھی شادی کی سالگرہ کے دن عطا کی ہے۔”
View this post on InstagramA post shared by RajKummar Rao (@rajkummar_rao)
خبر سامنے آتے ہی مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
جوڑے نے اپنی شادی کے تقریباً تین سال بعد، 9 جولائی کو انسٹاگرام پر حمل کی خبر دی تھی جس میں لکھا تھا “بیبی آن دا وے”۔
پترالیکھا نے پہلے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ بچے کی آمد کے بعد نیوزی لینڈ کے جنوبی حصے کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، کیونکہ وہ حصہ وہ پہلے دیکھ نہیں سکے۔ ان کا کہنا تھا، “ہوسکتا ہے ہم بَن جی جمپنگ یا کوئی اور دلچسپ کام بھی کریں—شاید بچے کے ساتھ!”
راجکمار راؤ نے 2013 کی فلم شاہد میں حقیقت پر مبنی کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے پترالیکھا سے 15 نومبر 2021 کو شادی کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شادی کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔