وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ مختلف شعبوں میں شراکت داری سے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت ملے گی۔

برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کی 77ویں سالگرہ کی تقریب برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد میں ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کیک کاٹا۔ اس موقع پر وفاقی کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹرینز، سفارتکاروں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تقریب میں شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں: پرنس اینڈریو کو جلاوطنی کا خطرہ! شاہ چارلس سے تعلقات نازک موڑ پر پہنچ گئے

اس موقع پر خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ چارلس سوم کی عوامی فلاح کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ یہ تقریب پاکستان اور برطانیہ کے قریبی تعلقات کی عکاس ہے۔ شاہ چارلس سوم اور ملکہ برطانیہ کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کرتے ہوئے محمد شہباز شریف نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر برطانیہ کی طرف سے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس ناسور کو ختم کرکے دم لیں گے۔

شہباز شریف نے برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی پر ہائی کمشنر جین میریٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے تعلیم، صحت، فنی تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: ملکہ برطانیہ کا مطالبہ جس نے بادشاہ چارلس کو سخت پریشان کرکے رکھ دیا

انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے کاوشیں جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews دعوت دورہ پاکستان سالگرہ تقریب شاہ چارلس سوم شہباز شریف ملکہ برطانیہ وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دعوت دورہ پاکستان سالگرہ تقریب شاہ چارلس سوم شہباز شریف ملکہ برطانیہ وزیراعظم پاکستان وی نیوز شاہ چارلس سوم شہباز شریف نے برطانیہ کے کرتے ہوئے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری