جوہی چاولہ نے بھارتی بزنس مین جے مہتا کے ساتھ شادی چھ سال تک خفیہ کیوں رکھی؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
بولی وڈ اداکارہ جوہی چاولہ نے اپنی 58 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے شوہر جے مہتا سے ملاقات اور چھ سال تک شادی کو پوشیدہ رکھنے سے متعلق دلچسپ انکشافات کر دیے۔
قیامت سے قیامت تک، ڈر اور عشق جیسی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی جوہی چاولہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے شادی کے لیے رضا مندی کے بعد جے مہتا کو ایک برس تک انتظار کرایا۔
انہوں نے بتایا کہ انڈسٹری میں ان کا مقام بننے لگا تھا اور چیزیں بہتر ہونا شروع ہوگئیں تھیں۔ وہ اس جگہ پر پہنچ کر کیریئر کو کھونا نہیں چاہتی تھیں۔وہ کام جاری رکھنا چاہتی تھیں اور یہ سب اس کے درمیان ہو رہا تھا۔ اس لیے ہم خاموش رہے اور انہوں نے کام جاری رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل جے ان کو روزانہ خطوط لکھا کرتے تھے۔ شادی کے بعد وہ سب بند ہوگیا۔ ان دنوں ہم ایک دوسرے کو خطوط اور کارڈ بھیجا کرتے تھے جو اب ای میلز اور واٹس ایپ میسجز میں بدل چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جے اور وہ ایک ڈنر پر ملے جس کے بعد وہ ان کے ارد گرد گھومنے لگے۔ ایک بار ان کی سالگرہ پر جے نے لال گلابوں سے بھرا ٹرک ان کے لیے بھیج دیا۔ انہوں نے جے کو ’ہان کہنے کے لیے ایک سال تک انتظار کرایا۔
واضح رہے جوہی چاولہ اور جے مہتا نے 1995 میں شادی کی تھی لیکن انہوں نے اس متعلق کسی کو نہیں بتایا۔ اس حوالے سے مداحوں کو 2001 میں جوہی چاولہ کی پہلی بیٹی جھانوی مہتا کی پیدائش کے موقع پر معلوم ہوا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے جے مہتا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔