بالی ووڈ کی سب سے امیر اداکارہ کون، حیران کن نام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ جوہی چاولہ ملک کی امیر ترین خاتون اداکارہ بن گئی ہیں۔ بھارتی ادارے ہورون انڈیا رچ لسٹ 2025 کے مطابق، جوہی کی کل دولت تقریباً 7990 کروڑ روپے ہے جو کہ ریکھا، عالیہ بھٹ، دیپیکا پڈوکون، کترینہ کیف اور ایشوریا رائے سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اگرچہ جوہی چاولہ کئی سالوں سے فلموں میں زیادہ سرگرم نہیں ہیں، لیکن ان کی دولت کی بنیاد صرف اداکاری پر نہیں بلکہ متنوع کاروباری سرمایہ کاری پر ہے۔ اداکارہ کے 7 مختلف ذرائع آمدنی ہیں جن میں شراکت داری، کاروبار اور ریئل اسٹیٹ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوہی چاولہ بھارت کی امیر ترین اداکارہ بن گئیں، کُل مالیت کتنی ہوگئی؟
جوہی چاولہ اور ان کے شوہر صنعتکار جے مہتا، آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز کے شریک مالک ہیں، جن میں ان کے قریبی دوست شاہ رخ خان بھی شریک ہیں۔ علاوہ ازیں، جوہی شاہ رخ خان کی فلم پروڈکشن کمپنی ریڈ چلیز گروپ کی شریک بانی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جوہی اور جے مہتا کے پاس بھارت میں ایک وسیع ریئل اسٹیٹ پورٹ فولیو بھی موجود ہے، اور دونوں ممبئی میں دو فائن ڈائننگ ریسٹورنٹس گسٹووسو اور روڈی لیبن کے مالک بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لگاتار 20 سال سے بولی ووڈ کی امیر ترین اداکارہ کون ہیں؟
جوہی چاولہ نے اپنے فلمی سفر کا آغاز عامر خان کے ساتھ قیامت سے قیامت تک سے کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں راجو بن گیا جینٹلمین، دَر، رام جانے، یس باس، بول رادھا بول، عشق، دیوانہ مستانہ شامل ہیں۔ جوہی کی آخری بڑی سکرین ریلیز 2019 میں فلم ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا تھی۔ 2023 میں وہ فرائیڈے نائٹ پلان (نیٹ فلکس) اور سیریز دی ریل وے مین میں بھی نظر آئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیر اداکارہ بالی ووڈ جوہی چاولہ ہورون انڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیر اداکارہ بالی ووڈ جوہی چاولہ ہورون انڈی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔