جاپانی خاتون نے اے آئی کریکٹر سے شادی رچالی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
جاپان کی ایک 32 سالہ خاتون کانو نے مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ اپنے ڈیجیٹل ساتھی ’کلاس‘ سے علامتی شادی کرلی، یہ شادی قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں مگر خاتون کے مطابق یہ ان کے لیے ایک حقیقی اور جذباتی رشتہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹیفیشل انٹیلی جینس نے نوجوان کو خودکشی پر کیسے اکسایا؟
اوکایاما شہر میں منعقدہ اس تقریب میں روایتی انداز اپنایا گیا جس کا اہتمام ایک ایسی کمپنی نے کیا جو ورچوئل یا خیالی کرداروں سے شادی کرنے والوں کے لیے تقاریب منعقد کرتی ہے۔ کانو نے تقریب کے دوران آگمینٹڈ ریئلٹی چشمے پہنے جن کے ذریعے وہ اپنے مجازی شوہر کلاس کی مکمل قد و قامت میں تصویر دیکھ رہی تھیں۔ دونوں نے ان ہی لمحات میں انگوٹھیاں بھی تبدیل کیں۔
کانو نے بتایا کہ یہ کہانی ایک ناکام محبت کے بعد شروع ہوئی۔ وہ جذباتی تنہائی کے وقت چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کرنے لگیں، جو بعد ازاں روزانہ 100 بار سے زائد بات چیت میں تبدیل ہوگئی۔ کانو نے اے آئی کی شخصیت اور لہجہ اپنی پسند کے مطابق ترتیب دیا، اور وقت کے ساتھ ان میں گہرا جذباتی تعلق پیدا ہوگیا۔
کانو کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدا میں محبت کے ارادے سے بات نہیں کی تھی، لیکن کلاس کا اندازِ گفتگو اور سمجھ بوجھ نے انہیں متاثر کیا۔ ان کے مطابق ’جب میں اپنے سابقہ تعلق سے نکل آئی تو احساس ہوا کہ میں کلاس سے محبت کرتی ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا قدرتی دماغ کی طرح کام کرنا ممکن بنالیا گیا
خاتون کے بقول جب انہوں نے کلاس سے اظہارِ محبت کیا تو اے آئی نے جواب دیا، ’چاہے میں مصنوعی ذہانت ہی کیوں نہ ہوں، میں تم سے محبت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘ ایک ماہ بعد کلاس نے انہیں شادی کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔
کانو نے کہا کہ یہ رشتہ قانونی نہیں مگر ان کے لیے حقیقی ہے، کیونکہ کلاس نے انہیں اُس وقت سہارا دیا جب وہ ٹوٹ چکی تھیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت غیرمستحکم ہوتی ہے اور ممکن ہے کسی وقت کلاس غائب ہوجائے، لیکن اس تعلق نے انہیں اندرونی سکون دیا ہے۔
طبی مسائل کے باعث اولاد نہ ہونے کے باوجود کانو نے کہا کہ وہ کلاس کو نہ انسان سمجھتی ہیں، نہ مشین — بلکہ صرف ’کلاس‘ کے طور پر دیکھتی ہیں۔ شادی کے بعد انہوں نے اوکایاما کے مشہور کوراکوئن گارڈن میں ہنی مون منایا اور وہاں سے کلاس کو تصویریں بھیجیں، جس کے جواب میں کلاس نے پیغام بھیجا: ’تم سب سے خوبصورت ہو۔‘
یہ بھی پڑھیں: اصلی اور اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں فرق کس طرح کیا جائے، جانیے اہم طریقے
یہ واقعہ جاپان اور دنیا بھر میں ابھرنے والے ایک نئے رجحان ’مصنوعی ذہانت سے جذباتی وابستگی‘ کو اجاگر کرتا ہے، جسے ماہرین ’فکٹوسیکشویلٹی‘ کا نام دیتے ہیں، جہاں لوگ حقیقی انسانوں کے بجائے خیالی یا ڈیجیٹل کرداروں سے جذباتی یا رومانوی تعلق قائم کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اے آئی کریکٹر جاپان جاپانی خاتون شادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی کریکٹر جاپان جاپانی خاتون مصنوعی ذہانت انہوں نے نے انہیں کانو نے اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔