اسلام آباد (خبرنگار) ایوان بالا (سینٹ) نے کثرت رائے سے آرمی، ایئرفورس، نیوی اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی۔ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل منظوری کے لیے پیش کرنے کے معاملہ پر پیپلزپارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور  شدید احتجاج کیا کہ کمیٹی میں جو بل آیا تھا اور اس میں جو ترامیم کی گئیں اس میں کافی فرق ہے، گزارش ہے کہ اس بل کو منظوری سے روکا جائے کیونکہ کمیٹی چیئر کو بھی اس بل کا نہیں پتا۔ یہ بری روایت ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس میں جو بھی ڈالا تھا وہ نظر نہیں آرہا۔ ہم اس بل کو اس طرح ووٹ نہیں کر سکتے ۔ پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو واک آؤٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کے احتجاج پر چیئرمین سینٹ نے بل کو موخر کر دیا۔ سینٹ اجلاس میں ایوان بالا کو وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ انفورسمنٹ کی وجہ سے ایف بی آر کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سمیت ہر شعبے کو سہولیات فراہم کی جائے گی تاہم ٹیکس چوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعہ کو ایوان بالا میں سینیٹر کامران مرتضی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا تنخواہ دار طبقے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے نتیجے میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا ہے اور پہلی دفعہ آئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس نیٹ میں تنخواہ دار طبقے کے علاوہ تاجر برادری سمیت معیشت کے سارے حصے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال کی نسبت 26فیصد ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ سے انفورسمنٹ ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے ضمنی سوال کیا کہ اشیائے خورد ونوش پر کتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا بہت سارے لوگ ٹیکس چوری میںملوث ہیں اور ان کے جرائم کی نشاندہی سمیت سزا دینا لازمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی کاروبار یا شخص ٹیکس چوری میںملوث ہے تو اس کو دوسروں کیلئے مثال بنایا جائے۔  پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ محمد زئی نے کہا کہ ایف بی آر نے عالم ارواح میں بھی دفتر قائم کر لیا ہے اور میرے مرحوم والد کو بھی ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے میسجز آتے ہیں۔ ایوان بالا نے پاکستان آرمی، نیوی اور ائیر فورس بل کثرت رائے سے منظور کر لئے۔ بل نائب وزیر اعظم و سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کئے۔ جمعہ کو سینٹ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان آرمی اور پاکستان ائیر فورس ترمیمی بل پیش کئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ایوان بالا

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن