عاصم منیر 2030 تک فوج کے سربراہ، آرمی، ایئر فورس اور نیوی ترمیمی بلز قومی اسمبلی میں منظور، CICSC کا عہدہ ختم
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد( نیوز ڈیسک )وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ 2025کے مسودے اور پاکستان آرمی ایکٹ‘ پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی‘وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ۔ ادھر قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ترمیمی بل2025، پاکستان ائیرفورس ترمیمی بل 2025،پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025کی منظوری دیدی‘اپوزیشن نے بلز کی مخالفت کی‘مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گاجس کے بعد آرمی چیف کی مدت بطور چیف آف ڈیفنس فورسز دوبارہ سے شروع ہوگی‘ وزیراعظم آرمی چیف‘چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ تعینات کریں گے‘کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈرکی مدت ملازمت 3سال ہوگی ‘قومی اسمبلی میں وضاحتی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی منظوری کے بعدآرمی چیف کا عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل ہوا ہے ‘ عہدے کی مدت 5سال ہوگی اورتعیناتی کی تاریخ سے مدت شمار ہوگی‘چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہےاور موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی اپنی ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر برقرار رہیں گے‘ مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف‘چیف آف ڈیفنس فورسز پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے‘ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف ا ف ڈیفنس فورسز ا رمی ایکٹ پاکستان ا ا رمی چیف کا عہدہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔