کیا شہناز گل اور شبمن گل بہن بھائی ہیں؟ اداکارہ نے وضاحت کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
معروف بھارتی اداکارہ اور گلوکارہ شہناز گل نے بھارتی کرکٹر شبمن گل سے رشتے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کی وضاحت کر دی۔
شہناز گل نے واضح کیا کہ ہم دونوں کی فیملی کا ایک ہی خاندانی نام گل ہے، لیکن ہمارا آپس میں کوئی خونی یا خاندانی رشتہ نہیں ہے۔
شہناز گل نے اس معاملے پر ہنستے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے وہ دور کے رشتے دار ہوں جو امرتسر کے ایک ہی علاقے سے ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے شبمن کو بہت اچھا انسان اور قابل کرکٹر بھی قرار دیا۔
یہ افواہیں اس وقت گردش میں آئیں جب مداحوں نے اس بات پر توجہ دی کہ دونوں پنجاب کے شہر امرتسر سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے اپنے شعبے میں بےحد مقبول ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق شبمن گل کی صرف ایک بڑی بہن شاہنیل گل ہیں جو اکثر ان کے ساتھ سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں۔
یاد رہے کہ شہناز گل نے بگ باس سیزن 13 سے شہرت حاصل کی تھی اور بعد ازاں متعدد کامیاب موسیقی کی ویڈیوز میں جلوہ گر ہوئیں، انہوں نے اپنی بالی ووڈ ڈیبیو فلم سلمان خان کے ساتھ کسی کا بھائی کسی کی جان میں کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہناز گل نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔