راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں نان بائیوں کی ہڑتال ختم ہونے کے بعد شہر بھر کے تندور کھل گئے جہاں نان، پراٹھا اور روغنی نان خریدنے والوں کا رش لگا ہوا ہے۔

تندور کھلنے سے چھوٹے ہوٹلز، ریڑھیوں پر سالن اور چنے فروخت کرنے والوں کا کاروبار بھی چل پڑا جبکہ بیکریوں پر ڈبل روٹی، بن اور شیر مال خریدنے والوں کا رش ختم ہوگیا۔

نان کی قیمت بڑھا کر 30 سے 35 روپے اور روغنی نان پراٹھے کی قیمت 50 سے بڑھا کر 60 روپے کر دی گئی۔ سرخ پتیری روٹی 14 روپے سے بڑھا کر 15 روپے اور خمیری روٹی 25 سے بڑھا کر 30 روپے کر دی گئی۔

انتظامیہ نے سرخ روٹی دوبارہ 14 روپے کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سرخ روٹی 14 روپے نا کی گئی تو چالان و جرمانے ہوں گے۔

ایسوسی ایشن کے صدر شفیق قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے چار روز بعد ہڑتال ختم کر کے آل پنجاب نان بائی کنونشن 13 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔ کنونشن میں حکومت کا نیا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا۔

نان بائی کنونشن میں اسلام آباد و پنجاب بھر کے نمائندے شریک ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بڑھا کر

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا