حکومت پہلی ’قومی صنعتی پالیسی‘ کے اجرا کیلئے آئی ایم ایف کی منظوری کی منتظر
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
حکومت نے ملک کی پہلی قومی صنعتی پالیسی (این آئی پی) وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کر دی ہے، جس میں صنعتی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی اور مینوفیکچرنگ شعبے کی بحالی کے لیے اصلاحات کی تجاویز دی گئی ہیں۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو ہدایت کی ہے کہ نئی پالیسی میں شامل مراعات کے لیے پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے منظوری حاصل کی جائے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی سربراہی میں پاکستانی ٹیم اور آئی ایم ایف نمائندوں کے درمیان اس ماہ کے آخر میں ملاقات متوقع ہے، جس میں مختلف شعبوں کے لیے تجویز کردہ مراعات کے سالانہ مالیاتی بوجھ پر بات چیت ہوگی۔
پالیسی کا ہدف 2030 تک 60 ارب ڈالر کی برآمدات، 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ اور سالانہ 8 فیصد مینوفیکچرنگ گروتھ حاصل کرنا ہے۔ اس کا مقصد صنعتی مسابقت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں توسیع کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔
اہم رکاوٹیں
نیشنل انڈسٹریل پالیسی میں صنعتی ترقی میں رکاوٹ بننے والی مختلف ساختی اور پالیسی سطح کی مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں میکرو اکنامک عدم استحکام، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال، مہنگی صنعتی زمین، ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی، غیر معتبر اور مہنگی بجلی کی فراہمی، طویل المدتی قرضوں تک محدود رسائی جیسے عوامل شامل ہیں۔
پالیسی کے مطابق، مقامی صنعتوں کو بلند شرحِ سود اور سرمایہ جاتی منڈیوں تک محدود رسائی کا سامنا ہے، سرمایہ کاروں کے حقوق کے کمزور تحفظ اور دیوالیہ پن کے ناقص نظام نے بینکوں کو قرضوں کی تنظیمِ نو کے لیے ناکافی اختیارات دے رکھے ہیں۔
اسی طرح، غیر مساوی ٹیکسیشن بھی صنعتی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے، مینوفیکچرنگ شعبے پر بھاری ٹیکس بوجھ ہے، جب کہ ریئل اسٹیٹ، تعمیرات، تھوک و خوردہ تجارت جیسے شعبے کم ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس سے صنعتی منصوبوں کا منافع متاثر ہوتا ہے۔
مینوفیکچرنگ اداروں کو زرمبادلہ کی قلت کا بھی سامنا ہے، کیوں کہ خام مال درآمد کرنے کے لیے ڈالرز تک رسائی میں اکثر تاخیر ہوتی ہے، بعض اوقات غیر ملکی سرمایہ کاروں کو منافع واپس بھیجنے میں دشواری پیش آتی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) متاثر ہوتی ہے۔
پالیسی میں معیارات پر کمزور عمل درآمد کو برآمدات میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مصنوعات کے معیار اور سرٹیفیکیشن نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین صنعتی شعبے میں بڑے پیمانے پر نظر انداز کی جا رہی ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ خواتین صنعتی دائرے کے حاشیے پر ہیں اور ان میں احساسِ شمولیت کی کمی ہے، اس صورتحال کو بدلنے کی ضرورت ہے اور زیادہ خواتین صنعت کاروں کو آگے لایا جانا چاہیے۔
مالی و ساختی اصلاحات
پالیسی میں ایک شفاف اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام تجویز کیا گیا ہے، جو آئی ایم ایف اصلاحات کے مطابق ہو، اس میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تمام شعبوں سے ان کے جی ڈی پی میں شراکت کے مطابق ٹیکس وصولی کی سفارش کی گئی ہے۔
پالیسی میں کارپوریٹ انکم ٹیکس (سی آئی ٹی) کی موجودہ 29 فیصد شرح کا بھی جائزہ لینے اور اسے علاقائی اوسط (26 فیصد) کے برابر لانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ برآمدی مسابقت بہتر ہو۔ سپر ٹیکس کا بھی از سرِ نو جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صنعتوں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
مشکلات کا شکار صنعتوں کی بحالی کے لیے پالیسی میں نیشنل انڈسٹریل ری وائیول کمیشن (این آئی آر سی) کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو کمپنیوں کی بحالی اور ریگولیٹری تعاون کی نگرانی کرے گا۔
اسی طرح، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کو مضبوط بنانے کے لیے پیٹنٹ کوآپریشن ٹریٹی میں شمولیت اور انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان (آئی پی او) کی صلاحیت میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ جعل سازی اور غیر قانونی نقل کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مزید برآں، پالیسی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کی جانب سے وصول کیے جانے والے زیادہ بندرگاہی چارجز میں کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ برآمدی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
حکام کے مطابق پالیسی کی منظوری کے بعد یہ صنعتی تبدیلی کا فریم ورک بنے گی، جس کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
تاہم، پالیسی کے نفاذ کا انحصار آئی ایم ایف کی منظوری پر ہوگا، کیوں کہ پاکستان اپنی موجودہ معاشی استحکام کے پروگرام کے تحت مالیاتی وعدوں کا پابند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی سفارش کی گئی ہے آئی ایم ایف پالیسی میں ئی ایم ایف کے مطابق جا سکے کے لیے
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔