نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کی منظوری دینے والی ہے۔

اس ضمن میں نیپرا 11 نومبر 2025 کو عوامی سماعت کرے گی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کے الیکٹرک پر کروڑوں روپے جرمانہ کیوں عائد کیا؟

یہ پیکیج بجلی کی طلب میں اضافے، نظام کے بہتر استعمال اور غیر فعال پیداواری صلاحیت سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

https://Twitter.

com/bloom_pakistan/status/1986670195386294604

وزارت توانائی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق، گزشتہ 3 برسوں میں پاکستان کے صنعتی شعبے میں بجلی کی کھپت 14 فیصد جبکہ زرعی شعبے میں 47 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

اس کمی کی وجوہات میں معاشی سست روی، ساختی تبدیلیاں اور متبادل توانائی ذرائع کا بڑھتا استعمال شامل ہیں، جن میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 6,035 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

نئے پیکیج کے تحت ٹائم آف یوز اور نان ٹائم آف یوز دونوں کیٹیگریز کے صارفین کے لیے فی یونٹ ریٹ 22.98 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

مزید پڑھیں: نیپرا کے فیصلوں سے اصلاحاتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت توانائی نے تحفظات کا اظہار کردیا

یہ شرح ان صارفین پر لاگو ہوگی جو ایکس ڈبلیو ڈسکوز اور کے الیکٹرک سے منسلک ہیں، اور ان کی انکریمنٹل یعنی اضافی بجلی کی کھپت، یعنی دسمبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان طے شدہ بنیادی سطح سے زیادہ استعمال، پر لاگو ہوگی۔

یہ اسکیم منظوری کے بعد 3 سال تک نافذ العمل رہے گی، یہ منصوبہ ’سبسڈی نیوٹرل‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی اس سے وفاقی بجٹ پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

تاہم اس میں مثبت فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ شامل ہوں گے، جبکہ کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، ڈیٹ سروس سرچارج اور منفی ایف سی اے لاگو نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں:نیپرا نے بجلی کی قیمت مزید کم کردی، سرمائی پیکج کا بھی اعلان

اگر کھپت 25 فیصد سے زائد بڑھی تو منصوبے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

تمام کیپٹیو پاور پلانٹس کو نئے صارفین کے طور پر شمار کیا جائے گا، جبکہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین کو اسی صورت اہل سمجھا جائے گا جب ان کے بجلی درآمدی یونٹس میں متعلقہ ماہ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا جائے۔

پاور ڈویژن کے مطابق، ماضی کے پروگرامز جیسے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج 23-2020 اور بجلی سہولت پیکیج 25-2024 سے صنعتی بجلی کھپت میں 14 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے 53 ارب روپے سے زائد ریلیف کا امکان

نئے پیکیج کی مالی کارکردگی کا جائزہ ہر 6 ماہ بعد لیا جائے گا، اور اگر مسلسل 2 جائزوں میں ٹیرف میں اضافہ درکار ہوا تو یہ اسکیم خودبخود ختم ہو جائے گی۔

نیپرا نے اسٹیک ہولڈرز کو عوامی سماعت میں شرکت یا اپنی تجاویز آن لائن جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ یہ پیکیج بجلی کے گرڈ آپریشن کو مستحکم کرے گا اور صنعتی و زرعی شعبوں کے لیے بجلی کی لاگت میں کمی کا باعث بنے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج زرعی صارفین صنعتی عوامی سماعت فلیٹ ریٹ کے الیکٹرک نیپرا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صارفین صنعتی عوامی سماعت کے الیکٹرک نیپرا صارفین کے بجلی کی جائے گا کے لیے

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ