علیمہ خان کا دھرنا ، 8 کارکنان پہلے گرفتار، پھر رہا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ظلم سہہ چکے، ظلم تو پھیلے گا،عدالتیں تو ختم ہو چکیں انصاف کیلئے کدھر جائیں؟؟
پیپلز پارٹی غلاموں کی کیا بات ،انہوں نے تو بھٹو کے بنائے آئین کو دفن کر دیا،گفتگو
بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان کے گورکھ پور ناکے پر دیے گئے دھرنے میں موجو8 کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں انکو رہا کر دیا گیا۔ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ظلم سہہ چکے، ظلم تو پھیلے گا،عدالتیں تو ختم ہو چکیں انصاف کے لئے کدھر جائیں؟؟۔تفصیلات کے مطابق علیمہ خان نے گورکھ پور ناکے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوری شدہ مینڈیٹ سے آپ جتنی ترامیم کر لیں یہ دیکھیں دنیا آپ کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے ،ن لیگ کی اصل میں صرف 14 سیٹیں تھیں 170 چوری شدہ سیٹیں ہیں ،خواتین کی نشستیں قاضی فائز عیسی نے ان کو دیں،ہم اس لئے کھڑے ہیں کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم غیرت مند قوم ہیں اپنے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا مان لیا کے آپ کو سب کچھ تاحیات مل چکا،آپ نے عمران کو اسکے باوجود قید تنہاِئی میں کیوں رکھا ہوا ہے ،پیپلز پارٹی والے غلاموں کی کیا بات ہے،انہوں نے تو بھٹو کے بنائے آئین کو دفن کر دیا ہے۔ اسلام آباد دھماکے پر ایک سوال کے جواب پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ یہ ہونا ہی تھا ،حالات خراب کئے جارہے ہیں ،میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جو قید کاٹ چکے، ظلم سہہ چکے، ظلم تو پھیلے گا،عدالتیں تو ختم ہو چکیں انصاف کے لئے کدھر جائیں؟؟۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے نمائندے کو آپ نے بند کررکھا ہے ،پاکستان کو جوڑنے کے لئے عمران خان کی ضرورت ہے کہ نہیں ہے؟۔دوسری جانب پولیس نے گورکھ پور ناکے پر موجود کارکنوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے دھرنے میں موجود کارکنان کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں،علیمہ خان کے ساتھ دھرنے میں موجود 8 کارکنا کو گرفتار کر لیاگیا ، تاہم علیمہ خان خواتین کے ساتھ گورکھ پور ناکے پر تاحال موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔