راہول گاندھی نے بہار انتخابات کے نتائج حیران کن قرار دیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بہار ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے انتخابات میں فتح حاصل نہیں کر سکے جو شروع سے ہی منصفانہ نہیں تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نتیجہ واقعی حیران کن ہے اور کانگریس سمیت اپوزیشن اتحاد ان نتائج کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہے اور وہ جمہوریت کو بچانے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مؤثر بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق اور شفاف انتخابی عمل کے لیے وہ مسلسل کام جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حکمران اتحاد بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جے ڈی یو (این ڈی اے) نے 243 میں سے 203 سیٹیں جیت کر بھاری اکثریت حاصل کی۔ ایم جی بی کو 34 اور دیگر جماعتوں کو صرف 6 نشستیں ملی ہیں، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے لیے میدان کافی مشکل ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔