27 ویں ترمیم غیر آئینی ،اپوزیشن اتحاد کا یوم سیاہ منانے کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ پر حملہ ہیں، عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں،شخصی بنیاد پر ترامیم کی گئیں،اپوزیشن
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے پر خراج تحسین، جمہوری مزاحمت جاری رہے گی، آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ،محمود اچکزئی کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں فیصلہ
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ 26ویں اور 27ویںآئینی ترمیم آئین کی بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اور جمہوریت کی بنیادی ستون عدلیہ پر ایک وار ہے، شخصی بنیاد پر آئین میں ترامیم کی گئی ہیں اس کلیتا مسترد کرتے ہیںآئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے، پیرکو ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ، پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کریں گے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق جمعہ کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کا غیر آئینی ستائیسویں ترمیم کے بعد ہنگامی سربراہی اجلاس زیر قیادت مشر محمود خان اچکزئی سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسد قیصر سیکرٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان، علامہ راجہ ناصر عباس سربراہ مجلس وحدت مسلمین، بیرسٹر گوہر خان چیٔر مین پاکستان تحریک انصاف، سلمان اکرام راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف، اختر مینگل سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی، زین شاہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی، ساجد ترین بلوچستان نیشنل پارٹی، مصطفی نواز کھوکھر وائس چیٔرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، فردوس شمیم نقوی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف، حسین یوسفزئی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان، خالد یوسف چوہدری وکیل بانی چیٔرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، علی اصغر خان سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ، شوکت بسرہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی شریک ہوئے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم بشمول چھبسیویں ترمیم آئین کی بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اور جمہوریت کی بنیادی ستوں عدلیہ پر ایک وار ہے جس نے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا ہے اور آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے اور شخصی بنیاد پر آئین میں ترامیم کی گئی ہیں اس کلیتا مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔ ان متنازعہ آئینی ترامیم نے عدلیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور سپریم کورٹ کا اختیار و وجود محدود کر دیا ہے اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفی کو اس آئین پر ڈکیتی کے سامنے ایک مزاحمت کے طور پر تعبیر کرتی ہے اور آئین پسند حلف کے پاسدار ججز کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ان غیر آئینی ترامیم کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کا اعادہ کرتی ہے اور آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کروانے کے لئے تمام جمہوری طریقے سے بھرپور احتجاج کرے گی اور آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ خیبر پختونخواہ امن جرگہ کے اعلامیہ کی تحریک تحفظ آئین پاکستان مکمل طور پر حمایت کرتی ہے اور اس پر عمل در آمد کا مطالبہ کرتی ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ بروز سوموار ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ، قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ تک واک کریں گے۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف قرار داد پیش کی جائے گی۔ ممبران پنجاب اسمبلی بروز سوموار پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کریں گے۔ لاہور میں وکلا احتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ اگلے جمعے کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان عمران خان، ان کی اہلیہ بشری بی بی اور پاکستان تحریک انصاف کی جملہ قیادت و کارکنان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پابند سلاسل قیادت و کارکنان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ کرتی ہے اصل شکل میں بحال سیکرٹری جنرل سپریم کورٹ کی بنیادی اور ا ئین ہے اور ا ا ئین کو کے خلاف کر دیا
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔