مقبوضہ کشمیر: سری نگر میں پولیس اسٹیشن پر دھماکا، 7 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں نوگام پولیس اسٹیشن کے کمپاؤنڈ میں زوردار دھماکا ہوا، جس میں 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکے کے بعد پورا علاقہ دھویں اور آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر بتایا کہ دھماکا پولیس کی تحویل میں موجود امونیم نائٹریٹ کے اچانک پھٹنے سے پیش آیا، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت معمولی حادثے سے کہیں زیادہ تھی، جس نے پولیس اسٹیشن کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
حکام کے مطابق اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 27 سے زائد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کے متعلق سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس اسٹیشن کے اندر کھڑی کئی گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آگئیں اور مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔ عمارت کا بڑا حصہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جہاں دیواریں گرنے اور شیشے ٹوٹنے سے مزید نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جائے وقوع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام اب بھی جاری ہے۔
بھارتی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے متاثرہ حصے میں مکمل سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ امونیم نائٹریٹ کی اتنی بڑی مقدار وہاں کیسے ذخیرہ کی گئی اور کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
مقامی سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کو انتظامی نااہلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی اداروں کی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔
دھماکے کے بعد علاقے میں کرفیو نما صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب کہ اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس اسٹیشن کے کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔