data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں نوگام پولیس اسٹیشن کے کمپاؤنڈ میں زوردار دھماکا ہوا،  جس میں 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکے کے بعد پورا علاقہ دھویں اور آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر بتایا کہ دھماکا پولیس کی تحویل میں موجود امونیم نائٹریٹ کے اچانک پھٹنے سے پیش آیا، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت معمولی حادثے سے کہیں زیادہ تھی، جس نے پولیس اسٹیشن کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

حکام کے مطابق اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 27 سے زائد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واقعے کے متعلق سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس اسٹیشن کے اندر کھڑی کئی گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آگئیں اور مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔ عمارت کا بڑا حصہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جہاں دیواریں گرنے اور شیشے ٹوٹنے سے مزید نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جائے وقوع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام اب بھی جاری ہے۔

بھارتی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے متاثرہ حصے میں مکمل سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ امونیم نائٹریٹ کی اتنی بڑی مقدار وہاں کیسے ذخیرہ کی گئی اور کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

مقامی سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کو انتظامی نااہلی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی اداروں کی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں کرفیو نما صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب کہ اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس اسٹیشن کے کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی