Jasarat News:
2026-07-24@04:36:47 GMT

پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251122-03-2
الحمدللہ! تاریخی بادشاہی مسجد میں علامہ یوسف القرضاوی مرحوم کے جانشین اور یونین آف اسلامی اسکالرز کے سربراہ شیخ ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی کے خطبہ جمعہ سے مینار پاکستان کے سائے تلے وطن عزیز کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع شروع ہو چکا ہے۔ 329 ایکڑ پر پھیلے عظیم تر اقبال پارک میں جماعت اسلامی پاکستان کے تین روزہ اجتماع عام میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر رنگ ونسل، ہر فرقہ و مسلک، ہر علاقہ و زبان اور ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے انسانوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں، مردوں اور عفت مآب مائوں، بہنوں، بیٹیوں کے سر ہی سر ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔ جو پاک وطن کی تقدیر بدلنے، یہاں کے فرسودہ اور سرطان زدہ نظام سے نجات دلا کر یہاں اسلام کے بتائے ہوئے قرآن و سنت پر مبنی فلاحی نظام کے نفاذ کا عظیم مقصد لے کر یہاں جمع ہوئے ہیں۔ وہ سب اس یقین سے سرشار ہیں کہ یہ اجتماع عام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کے مقصد وجود سے ہم آہنگ کرنے، یہاں بسنے والے 25 کروڑ انسانوں کو مسائل و مصائب سے نجات دلانے اور ایک روشن صبح کے طلوع میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ ان شاء اللہ! بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اپنے الفاظ میں ’’جماعت اسلامی کا نصب العین زندگی کے پورے نظام کو اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق بدلنا ہے۔ اس غرض کے لیے وہ معاشرے کی فکری اور عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ حکومت کے نظام میں بھی تبدیلی چاہتی ہے تاکہ مملکت کے ذرائع و وسائل پوری طرح اصلاح تعمیر کے لیے استعمال کیے جا سکیں اور ان اسباب کی روک تھام کی جا سکے جن کی وجہ سے زندگی کا نظام اسلام کے منشا کے خلاف چل رہا ہے۔ جماعت اسلامی ایک مدت سے تحریر اور تقریر کے ذریعے سے عوام میں اسلام پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور تمام نئی اور پرانی جاہلیتوں کے خلاف بھی نبرد آزما ہے، جنہوں نے ہماری زندگی کے مختلف گوشوں میں ڈیرے جما رکھے ہیں۔ وہ انگریزی اقتدار کے ان تمام اثرات کو بھی کھرچنے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے اخلاق اور نظریات سے لے کر معاشرت اور سیاست تک ہماری ہر چیز کو اسلامی نقطۂ نظر سے مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ علمی حیثیت سے بھی بتا رہی ہے کہ اسلامی اصولوں پر ہر شعبہ حیات کی تعمیر جدید کس طرح کی جا سکتی ہے اور اس وقت کے مسائل زندگی کا حل کیا ہے۔ وہ عملی حیثیت سے اس بات کی کوشش بھی کر رہی ہے کہ انفرادی و اجتماعی طور پر لوگوں میں خدا کی بندگی اور انبیائؑ کی پیروی کا جذبہ اور ایمانی اخلاق کا رنگ پیدا ہو، اور ایسی سیرتیں تیار ہوں جن میں آخرت کی جواب دہی کا احساس کار فرما ہو اور ان سب باتوں کے ساتھ وہ یہ بھی ضروری سمجھتی ہے کہ پاکستان کا نظامِ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیا جائے جو اسلام کے مطابق کام کرنا جانتے بھی ہوں اور چاہتے بھی ہوں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ایک بگڑی ہوئی حکومت اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی مزاحم طاقت ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف اصلاح کی خواہش رکھنے والے لوگ و عظ و تلقین اور تحریر و تقریر سے لوگوں کی زندگی درست کرنے کی کوشش کریں اور دوسری طرف حکومت کی ساری طاقت اور اس کے سارے ذرائع لوگوں کے ذہن اور اخلاق اور معاملات کو بگاڑنے میں لگے رہیں تو ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ ایسے حالات میں کتنی کچھ اصلاح ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ یہ چیز اس بنا پر بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ اگر ایک طرف یہاں اسلامی اصلاح و انقلاب کے خواہش مند لوگ غیر سیاسی تدبیروں سے اسلامی زندگی کی تعمیر کے لیے کوششیں کریں اور دوسری طرف ہماری قومی حکومت کا انتظام ان فرنگیت مآب لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو اپنی پوری سیاسی طاقت اس ملک کو انگلستان اور امریکا یا روس کی نقل بمطابق اصل بنانے کی کوشش میں صرف کر دیں تو اس سے یہاں ایک سخت کشمکش رونما ہو گی جو کسی حیثیت سے بھی اس ملک کے لیے مفید نہیں ہو سکتی۔ اس طرح ہر ایک جو کچھ بنانے کی کوشش کرے گا دوسرا اسے بگاڑنے میں اپنی طاقت صرف کرتا رہے گا اور فی الواقع یہاں کچھ بھی نہ بن سکے گا۔ یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنا پر جماعت اسلامی اپنی دوسری کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی قیادت کو ایک صالح (ایمان دار، باصلاحیت اور خدا ترس) قیادت سے بدلنے کی جدوجہد بھی کر رہی ہے۔ اس جدوجہد میں اس کے پیش نظر اپنا اقتدار نہیں بلکہ ان اصولوں کا اقتدار ہے جن پر اس کا اور ساری مسلم امت کا ایمان ہے۔ جماعت اسلامی آزمائے ہوئے غلط کار لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کو انتخابات کے لیے قوم کے سامنے لانا چاہتی ہے جو دیندار بھی ہوں اور دیانت دار بھی اور اس کے ساتھ نظام حکومت چلانے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔ جماعت اسلامی انتخاب کے غلط طریقوں کی اصلاح کرنا چاہتی ہے جو اب تک ہمارے ملک میں دھن سے، دھونس سے اور دھاندلی سے جیتے جاتے رہے ہیں۔ جن میں جھوٹ، بہتان اور دشنام طرازی سے کام لیا جاتا رہا ہے جن میں نسل، برادری، صوبائیت اور فرقہ بندی کے تعصبات سے اپیل کی جاتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی خود ایمانداری کے ساتھ اخلاق کے اصولوں کی پوری پابندی کرتے ہوئے یہ انتخابی جنگ لڑنا چاہتی ہے اور دوسروں کو بھی اس قابل نہیں رہنے دینا چاہتی کہ وہ انتخاب میں ناجائز ہتھکنڈے استعمال کر کے عوام کی آزاد مرضی کے خلاف ان کے سروں پر سوار ہو جائیں۔ جماعت اسلامی ایک حقیقی اور صحت مند جمہوریت کا قیام چاہتی ہے جس کے باشندے ذی شعور ہوں اور حکومت کا بدلنا اور بننا ان کی آزاد مرضی پر موقوف ہو‘‘۔ پاکستان کو وجود میں آئے 78 برس بیت چکے مگر آج بھی یہ ان مقاصد سے کوسوں دور ہے جن کی خاطر اسے وجود میں لایا گیا تھا یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہترین انسانی مادی اور معدنی وسائل کی دستیابی کے باوجود حالات ایسے پیدا کر دیے گئے ہیں کہ تمام وسائل ایک خاص طبقے نے اپنی وراثت تصور کر لیے ہیں یہ طبقہ اپنی نا اہلیوں سمیت ملک پر حکمرانی کر رہا ہے اور عام آدمی کو اس کے حقوق دستیاب نہیں اسے ہر طرف محرومیوں کا سامنا ہے، وہ تعلیم، صحت، خوراک و رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے جب کہ بالا دست طبقہ ایک جانب تو خود ٹیکس دینے پر تیار نہیں اور عام آدمی پر ہر روز نت نئے اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے اور پھر غریبوں سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کی رقم بھی یہ بالادست طبقہ اور اشرافیہ اپنی عیش و عشرت پر بے دردی سے استعمال کرتا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو ان کا مناسب حالات اور بے یقینی کی فضا سے نجات دلانے کے لیے ایک بڑی تحریک شروع کرنا چاہتی ہے اور اکیس سے 23 نومبر تک مینار پاکستان پر منعقد کیے جانے والے عظیم الشان اجتماع عام کے ذریعے قوم کو روشنی اور امید کی کرن دکھانا مقصود ہے یہ تاریخی اجتماع عام پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور عوامی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اجتماع سے عوام کو ایک نیا عزم و حوصلہ ملے گا۔ امیر جماعت کلیدی خطاب میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ جماعت اجتماع کے ساتھ ہی ایک بڑی سیاسی تحریک عوام کے حقوق کے لیے برپا کرے گی۔ اس تحریک کے نتیجے میں جماعت اسلامی ایک بڑی حقیقت اور قوت کے طور پر عوام کی نگاہوں کا مرکز بنے گی اور موجود گلے سڑے ناکارہ نظام کو تبدیل کر کے اسلامی و فلاحی نظام کے قیام کی منزل تک پہنچ کر دم لے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!!!

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ا کی کوشش کر کر رہی ہے چاہتی ہے لوگوں کے کے ساتھ ہے اور کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی