فتنہ الخوارج سے امریکی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے کے پی میں کارروائیاں، امریکی ساختہ اسلحہ اور جدید آلات برآمد
دہشت گرد گروہ پاکستان کیخلاف کارروائیوں میں استعمال کر رہے ہیں،سیکیورٹی ذرائع
سیکیورٹی فورسز نے کے پی میں کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے امریکی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد کرلیا۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران فتنہ الخوارج سے بڑی تعداد میں امریکی ساختہ اسلحہ اور جدید آلات برآمد ہوئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ضبط کیے گئے ہتھیاروں پر واضح نشانات موجود ہیں کہ یہ امریکی حکومت کی ملکیت ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ اور آلات وہی ہیں جو امریکی فوج اور نیٹو افواج افغانستان سے انخلا کے دوران چھوڑ گئی تھیں، جنہیں بعدازاں دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق برآمد کیے گئے اسلحے میں ایم فور، ایم 16 سمیت جدید خودکار اسلحہ اور اسٹیل ہیڈ گولیاں برآمد ہوئیں ، جوبلٹ پروف جیکٹ سے بھی گزرسکتی ہیں۔فتنہ الخوارج سے نائٹ ویژن گاگلزاور دیگر جدید آلات سمیت امریکی فوج اور نیٹو کے زیر استعمال اعلیٰ معیار کا دھماکاخیز مواد اور تاریں بھی برآمد ہوئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید امریکی اسلحے کے استعمال سے فتنہ الخوارج رات کے وقت بھی حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے خطرات میں اضافہ ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج سے اسلحہ اور
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔