سنجے کپور کا جائیداد کا حقیقی وارث کون؟ خاندانی لڑائی نے نیا رُخ اختیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
سنجے کپور کی 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد پر جاری خاندانی لڑائی میں نیا موڑ آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سنجے کپور کی 30 ہزار کروڑ کی دولت پر جنگ، کرشمہ کپور کے بچوں نے وصیت ہائیکورٹ میں چیلنج کردی‘
سابقہ اداکارہ کرشمہ کپور کے سابق شوہر سنجے کپور کی بہن مندھیرا کپور نے ایک پوڈکاسٹ میں کھل کر الزام لگایا ہے کہ پریا کپور اپنے سابق شوہر وکرم چٹوال کی بیٹی سفیرہ کو سنجے کی ’وارث‘ بنانا چاہتی ہیں، جو خاندان کی اصل لائن کو بدلنے کے مترادف ہے۔
بہن کا موقف کیا ہے؟
مندھیرا کپور کا کہنا ہے کہ وصیت میں سفیرہ کو بیٹی دکھایا جانا غلط ہے، کیونکہ وہ سنجے کی حقیقی بیٹی نہیں ہیں۔
ان کے مطابق وصیت میں سفیرہ کو بیٹی کہا گیا ہے، جبکہ اصل بیٹی سامائرہ ہے۔ سفیرہ سوتیلی بیٹی ہے۔ اس کے حقیقی والد زندہ ہیں۔
سفیرہ دراصل پریا کپور اور ہوٹل بزنس مین وکرم چٹوال کی بیٹی ہے۔ پریا نے پہلی شادی ٹوٹنے کے 6 سال بعد 2017 میں سنجے کپور سے دوسری شادی کی تھی۔
سنجے کی زندگی میں سفیرہ اپنی ماں کے ساتھ انہی کے گھر میں رہتی تھیں، اور سنجے ان کا خیال بھی رکھتے تھے۔
’خاندان کی لائن نہ بدلیں‘
مندھیرا نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہتا کہ سنجے سفیرہ کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر جب سامائرہ موجود ہے تو وراثت میں سفیرہ کو اصل بیٹی بنا کر شامل کرنا مناسب نہیں۔ نسب دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔
یاد رہے کہ جائیداد کی یہ جنگ اکتوبر سے عدالت میں جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنسنی خیز ہوتی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سنجے کپور میں سفیرہ سفیرہ کو
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔