دوسرے صوبوں کے ای چالان کراچی والوں کے گلے پڑنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
28 سال سے اب تک مسروقہ گاڑی برآمد نہیں کی جاسکی، مالک کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے جرمانے کا 10 ہزار کا ای چالان موصول
ایک ہی طرح کی نمبر پلیٹ کراچی رجسٹریشن کی یہ ہوبہو گاڑی اے اے آر 540 کوئٹہ میں رجسٹرڈ نکلی، تحقیقات میں انکشاف
دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کے ای چالان کے بھاری جرمانے بھی کراچی والوں کو موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔کراچی میں ای چالان کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد شہریوں کے لیے مختلف نوعیت کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں جب کہ ایسے میں دوسرے صوبوں کی سندھ میں رجسٹرڈ ہوبہو نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کے بھاری جرمانے کراچی والوں کے گلے پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔یہ انکشاف گزشتہ روز ایک کار نمبرکے مالک (AAR 540 )کو ملنے والے 10 ہزار روپے کے بھاری جرمانے کی انکوائری میں سامنے آیا۔کراچی رجسٹریشن کی یہ کار 22 مئی 1997 کو شاہراہ فیصل پر فیاض سینٹر کے قریب کار پارکنگ سے چوری ہوئی تھی جس کا مقدمہ 122؍97 صدر تھانے میں ہوٹل ملازم زاہد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 28 سال سے اب تک یہ مسروقہ گاڑی برآمد نہیں کی جاسکی ہے مگر گزشتہ ہفتے اس کے مالک کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے جرمانے کا 10 ہزار کا ای چالان موصول ہوا۔اس معاملے کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ چوری ہونے والی گاڑی مہران کار تھی مگر جس گاڑی کا چالان ہوا وہ سوزوکی آلٹو تھی۔ اس سلسلے میں جب مزید تفتیش کی گئی تو کراچی رجسٹریشن کی یہ ہوبہو گاڑی اے اے ار 540 صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رجسٹرڈ نکلی۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی بلوچستان سے کراچی آئی تو حب ریور روڈ پر حب ٹول پلازہ کے قریب گاڑی کا سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر چالان ہوا اور ایک ہی طرح کی نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے اس کا چالان کراچی کے پتے پر آگیا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن آن لائن نہ ہونے کی وجہ سے ایسی گاڑیاں کراچی پولیس کے لیے درد سر بننے لگی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔