فائیواسٹار ہوٹل کی 28 سال قبل چوری کار کا 10 ہزار کا ای چالان موصول
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )ٹریفک پولیس کراچی کا نیا جدید وخودکار فیس لیس ای چالان نظام ، نااہل عملہ‘ گاڑیوں کی نمبرز پلیٹس اورریکارڈ میں گھن چکرہوگیا،جدید نظام کے تحت 2001 میں کوئٹہ میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑی کا ای چالان کراچی کے نجی ہوٹل کو بھیج دیا گیا، ای چالان موصول ہونے پر ہوٹل انتظامیہ سر پکڑکربیٹھ گئی، نشاندہی ہونے پر ٹریفک پولیس نے نجی ہوٹل کی انتظامیہ کو جاری کیا جانے والا ای چالان ختم کردیا۔رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس کراچی کا نیا جدید وخودکار فیس لیس ای چالان نظام ، گاڑیوں کی نمبرز پلیٹس اورریکارڈ میں گھن چکرہوگیا، جدید نظام کے تحت 2001 میں کوئٹہ میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑی کا ای چالان کراچی کے نجی ہوٹل کو بھیج دیا گیا۔ای چالان موصول ہونے پر ہوٹل انتظامیہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ،ہوبہونمبر پلیٹ کی حامل نجی ہوٹل کی گاڑی 28 سال قبل چوری ہوئی تھی، نجی ہوٹل کی گاڑی رجسٹریشن نمبراے اے آر 540 مئی 1997 ء کو فیاض سینٹر کی پارکنگ سے چوری کی گئی تھی اور گاڑی کی چوری کا مقدمہ الزام نمبر 1997/122 صدر تھانے میں 22 مئی 1997 کو درج کیا گیا تھا۔ای چالان کی جانے والی گاڑی کوئٹہ کے شہری رحمت اللہ جو کہ رحمت کالونی کا رہائشی ہے اس کے نام پررجسٹرڈ ہے،۔کوئٹہ رجسٹرڈ گاڑی کا چالان 27 اکتوبر کو حب ٹول پلازہ پر ڈرائیور کے سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر کیا گیا چالان موصول ہونے کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے ٹریفک انتظامیہ کو گاڑی کی چوری کے حوالے سے آگاہ کردیا۔نجی ہوٹل انتظامیہ نے چالان موصول ہونے کے بعد ٹریفک پولیس کے سہولت گھر سے رابطہ کیا اور28 سال قبل گاڑی چوری ہونے کا بتایاٹریفک پولیس کی جانب سے نجی ہوٹل کو دیے جانے والے ای چالان کو کلوز کردیا گیا تھا۔ترجمان ٹریفک پولیس نے بتایاکہ کراچی ٹریفک پولیس کے نظام میں بتدریج بہتری کا عمل جاری ہے اور اب اے وی ایل سی اور دیگر کرائم ڈیٹا بیسز کے ساتھ مکمل انٹیگریشن ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے پرانے کیسز اب سامنے آسکتے ہیں، تاہم مستقبل میں ایسی غلط فہمیاں نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ٹریفک پولیس نے اس مخصوص چالان کے حوالے سے متعلقہ مالک کو باقاعدہ ریلیف فراہم کیا ہے اور تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے ہیں کراچی ٹریفک پولیس شہریوں کی سہولت، سیکورٹی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے گاڑیوں کی پوائنٹیشن (flagging) کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔چالان جاری کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بعض گاڑیاں جعلی یا دو نمبر نمبر پلیٹس کے ساتھ بھی چلائی جا سکتی ہیں۔ایسے معاملات میں چالان اور ڈیجیٹل اسکریننگ کا عمل چوری شدہ گاڑیوں کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور شہریوں میں قانون کی پاسداری کا شعور پیدا کرتا ہے۔کراچی ٹریفک پولیس اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ جدید ڈیٹا انٹیگریشن، ڈیجیٹل اسکیننگ اورڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے چوری شدہ گاڑیوں، جعلی نمبر پلیٹس اوردیگرغیر قانونی سرگرمیوں کی مؤثر نشاندہی کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چالان موصول ہونے ہوٹل انتظامیہ ٹریفک پولیس گاڑیوں کی نجی ہوٹل ہوٹل کی
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔