Express News:
2026-07-24@08:10:37 GMT

برآمدات میں کمی تشویش ناک

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

کراچی پورٹ جہاں کبھی کثرت سے برآمدی مال جہازوں میں بھرا جاتا تھا، صبح کی دھوپ میں یہ بندرگاہ خاموش ہے کیوں کہ بڑی کم تعداد میں کنٹینر بھرے جا رہے ہیں اور ہر کنٹینر کے ساتھ امید کی روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ابھی مزید 8-7 ماہ تو پڑے ہیں لیکن برآمدات میں سے کمی ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے،کیونکہ جولائی تا اکتوبر 2025 پاکستان کی کل برآمدات10 ارب 45 کروڑ ڈالرزکی تھیں۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے جولائی تا اکتوبر 2024 کل برآمدی مالیت میں 4.

1 فی صد کمی نوٹ کی گئی یعنی کل برآمدات 10 ارب 89 کروڑ ڈالر کی تھیں۔ اب تو وہ کارخانے جو کبھی روشن چراغ کی طرح جلتے تھے، اب چراغ بجھ گئے ہیں۔

مشینوں کی گونج مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ مزدور کے ہاتھ خالی ہیں اور دل پریشان۔ چاول، کپاس ہو یا تیار شدہ کپڑے اور ملبوسات میں چھپی محنت اب عالمی منڈی کی سست روی میں دب کر رہ گئی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کی بدولت ایسا ظاہر نہیں ہو رہا ہے بلکہ ہر غریب، ہر کسان، ہر زمیندار کی داستان غربت کی صدا ہے پہلے برآمدات میں عموماً 10 سے 12 فی صد اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ 4 فی صد سے زائد کی کمی دراصل برآمدات کی کمی کے ساتھ قوم کے خواب ادھورے رہ گئے ہیں اور اس تاریکی کو اور گہرا کر دیا گیا ہے جب معلوم ہوا کہ درآمدات میں ساڑھے 15 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران پاکستان کی کل درآمدات 23 ارب 11 کروڑ ڈالرز کی رہیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے جولائی تا اکتوبر 2024 میں 20 ارب ڈالرزکی تھیں۔ ساڑھے 15 فی صد درآمدات کا اضافہ ملک کے تجارتی توازن کے لیے انتہائی افسوس ناک ہے اور تشویشناک بھی ہے کیونکہ ہر درآمدی سامان ہماری کمزوری کا فسانہ ہے۔ مزدور کے لیے کم روزگار کے خدشات ہیں۔ درآمدات ہر پاکستانی کے سر پر بوجھ ہے جو غربت مہنگائی صحت کے مسائل اور بے شمار مسئلے و مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ برآمدات میں 4 فی صد کی کمی اور درآمدات میں ساڑھے 15 فی صد کا اضافہ ملکی خزانے، تجارتی توازن اور عوام کی خوشحالی کے لیے خطرناک ہیں۔ یہ نوحہ صرف مالی نقصان کا نہیں 23 ارب ڈالر کا ہاتھ سے پھر سے اڑ جانے کا نام نہیں بلکہ تجارتی ناکامی ہے۔ پاکستان جس کی برآمدات اکثر 10 سے 12 فی صد سالانہ اضافے کی راہ پر اکثر چلی جاتی ہے، اگر اس 10 فی صد اضافے اور 4 فی صد کمی کو اضافے میں بدل دیں تو برآمدی مالیت ساڑھے 12 یا 12 ارب ڈالر تک ہو سکتی تھی لیکن دنیا کی منڈی میں برآمد شدہ مال کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔

بہت سے ملکوں کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں برآمدات میں اضافے کی توقع بندھ کر اب ٹوٹ رہی ہے۔ کیونکہ عالمی تجارت کے وعدے اور امیدیں اب دھندلا رہی ہیں، لیکن پاکستان کے پاس اب بھی 7 ماہ سے زائد کا عرصہ ہے۔ اس عرصے کے لیے ان وعدوں، تقریروں، عزم اور ارادوں کو یاد کریں جو حکومت کے ایوانوں سے بار بار دہرائی جاتی رہی ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے گُر آزمانے کا وقت آگیا ہے۔

بجلی، گیس، پانی کی فراوانی، ٹیکسوں کی ارزانی بیرون ملک تجارتی اتاشیوں کی دوڑ دھوپ تاجروں کے لیے آسانی اور بہت سی باتوں کے لیے فوری ایکشن پلان بنایا جائے۔ 4 ماہ کی برآمدی کارکردگی نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو 7 ماہ بعد یہ اعداد و شمار عوام پر بوجھ بن کر اتریں گے کہ سال گزشتہ کی نسبت برآمدات میں اتنے فی صد کمی واقع ہو گئی ہے، لہٰذا اس سے بچنے کا اہتمام فوری کیا جائے۔ 4 فی صد برآمدات میں کمی کو برآمدات میں 40 فی صد اضافے سے بدل کر رکھ دینا، تاجروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل جب ہی بن سکتا ہے جب حکومت مراعات اور سہولیات اورکچھ ارزانی فراہم کرے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: برآمدات میں کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف