دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کے بھاری ای چالان بھی کراچی والوں کے گلے پڑنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کے ای چالان کے بھاری جرمانے بھی کراچی والوں کو موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔کراچی میں ای چالان کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد شہریوں کے لیے مختلف نوعیت کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں جب کہ ایسے میں دوسرے صوبوں کی سندھ میں رجسٹرڈ ہوبہو نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کے بھاری جرمانے کراچی والوں کے گلے پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔یہ انکشاف گزشتہ روز ایک کار نمبرکے مالک (AAR 540 )کو ملنے والے 10 ہزار روپے کے بھاری جرمانے کی انکوائری میں سامنے آیا۔کراچی رجسٹریشن کی یہ کار 22 مئی 1997 کو شاہراہ فیصل پر فیاض سینٹر کے قریب کار پارکنگ سے چوری ہوئی تھی جس کا مقدمہ 122/97 صدر تھانے میں ہوٹل ملازم زاہد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 28 سال سے اب تک یہ مسروقہ گاڑی برآمد نہیں کی جاسکی ہے مگر گزشتہ ہفتے اس کے مالک کو سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے جرمانے کا 10 ہزار کا ای چالان موصول ہوا۔اس معاملے کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ چوری ہونے والی گاڑی مہران کار تھی مگر جس گاڑی کا چالان ہوا وہ سوزوکی آلٹو تھی۔ اس سلسلے میں جب مزید تفتیش کی گئی تو کراچی رجسٹریشن کی یہ ہوبہو گاڑی اے اے ار 540 صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رجسٹرڈ نکلی۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی بلوچستان سے کراچی آئی تو حب ریور روڈ پر حب ٹول پلازہ کے قریب گاڑی کا سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر چالان ہوا اور ایک ہی طرح کی نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے اس کا چالان کراچی کے پتے پر آگیا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن آن لائن نہ ہونے کی وجہ سے ایسی گاڑیاں کراچی پولیس کے لیے درد سر بننے لگی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے بھاری
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ