پی ٹی آئی ایبٹ آباد کے رہنما موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ایبٹ آباد(نیوزڈیسک)تھانہ نیو ٹاؤن کےعلاقہ میں فائرنگ کرکے پی ٹی آئی ایبٹ آباد کے مقامی رہنما کو زخمی کر دیا گیا، ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ خاندانی دشمنی کے باعث پیش آیا ۔
فائرنگ کا واقعہ سکستھ روڈ فلائی اوور کے پاس پیش آیا، موٹر سائیکل سوار دوملزمان نے زرخان نامی پی ٹی آئی رہنما پر فائرنگ کی۔زر خان کو تین گولیاں لگیں اور زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار ملزمان موقع سے فرارہو گئے، پولیس کے مطابق زخمی زر خان نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ان پر خاندانی دشمنی کی بناء پر فائرنگ کی گئی۔
زخمی زر خان اور ملزمان کی خاندانی دشمنی چل رہی ہے جسکے نتیجہ میں دونوں اطراف سے متعدد افراد قتل بھی ہو چکے۔۔پولیس کے مطابق زخمی زر خان کے ابتدائی بیان کے مطابق مقدمہ کا اندراج کیا جائے گا ،جبکہ زخمی کی حالت خطرے سے باہر بیان کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔