جماعت اسلامی کا مینار پاکستان پر اجتماع عام، ملک بھر سے ہزاروں کارکنان شریک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
لاہور:
مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام کا آغاز ہوگیا جس میں ملک بھر سے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد شریک ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اجتماع عام کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا سوچا تو عبرت کا نشان بنادیں گے، کشمیر پر سودے بازی بھی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آج مینارپاکستان کا دامن شرکا کے لیے چھوٹا پڑ گیا ہے، اس اجتماع میں ملک بھر سے لوگ شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا یہ تاریخی اجتماع ناصرف پاکستان کے لیے اتحاد یگانگت کی علامت بن گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امت مسلمہ کا نمائندہ ہے، ہفتہ کو بین الاقوامی سیشن میں 150 کے قریب غیرملکی مندوبین شریک ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت حتیٰ کہ حکومت بھی اتنا بڑا اجتماع نہیں کرسکتی، ہم خاندانی اجارہ داری اور اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے والی جماعت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر مافیاؤں کا راج ہے جسے ختم کریں گے، پاکستان شہباز شریف، عمران خان، عاصم منیر یا آصف زرداری کا نام نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا نام پاکستان ہے۔
پنجاب پولیس کی جانب سے مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے حوالے سے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجتماع گاہ کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر کارکنوں اور سامان کو چیکنگ کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔