صبا قمر اور ماہرہ خان کی دشمنی، اداکارہ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پاکستانی فلم انڈسٹری کی مقبول اداکارہ ماہرہ خان اور صبا قمر کے درمیان چپقلش کی خبریں کئی بار منظر عام پر آئی ہیں، اس حوالے سے ماہرہ خان نے واضح موقف پیش کیا ہے۔
ماہرہ اپنی نئی فلم ’نیلوفر‘ کی تشہیر کے دوران فواد خان کے ساتھ نجی ٹی وی کے پروگرام میں شریک تھیں، جہاں ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ میڈیا میں بارہا ان دونوں کے درمیان ’خاموش دشمنی‘ کا تاثر کیوں دیا جاتا ہے۔
ماہرہ خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے کئی مرتبہ یہی سوال کیا جا چکا ہے اور وہ ہمیشہ یہی کہتی آئی ہیں کہ ان کی جانب سے کبھی بھی کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی۔
انہوں نے صبا قمر کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے حد باصلاحیت فنکارہ ہیں۔ ماہرہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ جب دو مضبوط اور کامیاب خواتین ایک ساتھ نظر آتی ہیں تو لوگ خود ہی انہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کہانیاں بنانا اور رقابت کا ماحول پیدا کرنا ایک عام رویہ بن چکا ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ بجائے اس کے کہ ایسی قیاس آرائیاں کی جائیں، اگر دونوں خواتین کو ایک ساتھ کام کرتے دیکھا جائے تو نہ صرف ان کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ پروجیکٹس بھی مضبوط ہو کر سامنے آئیں گے۔
ماہرہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ابھی تک صبا قمر کے ساتھ کوئی مشترکہ پروجیکٹ نہیں کیا، مگر اگر کبھی موقع ملا تو وہ ضرور ان کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی۔ ان کے مطابق دونوں بہترین فنکارائیں ہیں اور اگر ایک پروجیکٹ میں اکٹھی آئیں تو وہ یقیناً ایک متاثر کن اور معیاری کام بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہرہ خان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔