پاکستانی فلم انڈسٹری کی مقبول اداکارہ ماہرہ خان اور صبا قمر کے درمیان چپقلش کی خبریں کئی بار منظر عام پر آئی ہیں، اس حوالے سے ماہرہ خان نے واضح موقف پیش کیا ہے۔

ماہرہ اپنی نئی فلم ’نیلوفر‘ کی تشہیر کے دوران فواد خان کے ساتھ نجی ٹی وی کے پروگرام میں شریک تھیں، جہاں ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ میڈیا میں بارہا ان دونوں کے درمیان ’خاموش دشمنی‘ کا تاثر کیوں دیا جاتا ہے۔

ماہرہ خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے کئی مرتبہ یہی سوال کیا جا چکا ہے اور وہ ہمیشہ یہی کہتی آئی ہیں کہ ان کی جانب سے کبھی بھی کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی۔

انہوں نے صبا قمر کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے حد باصلاحیت فنکارہ ہیں۔ ماہرہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ جب دو مضبوط اور کامیاب خواتین ایک ساتھ نظر آتی ہیں تو لوگ خود ہی انہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کہانیاں بنانا اور رقابت کا ماحول پیدا کرنا ایک عام رویہ بن چکا ہے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ بجائے اس کے کہ ایسی قیاس آرائیاں کی جائیں، اگر دونوں خواتین کو ایک ساتھ کام کرتے دیکھا جائے تو نہ صرف ان کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ پروجیکٹس بھی مضبوط ہو کر سامنے آئیں گے۔

ماہرہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ابھی تک صبا قمر کے ساتھ کوئی مشترکہ پروجیکٹ نہیں کیا، مگر اگر کبھی موقع ملا تو وہ ضرور ان کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی۔ ان کے مطابق دونوں بہترین فنکارائیں ہیں اور اگر ایک پروجیکٹ میں اکٹھی آئیں تو وہ یقیناً ایک متاثر کن اور معیاری کام بن سکتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماہرہ خان

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی