قومی اسمبلی: بیوی بچوں، بزرگوں کے سماجی تحفظ کیلئے قانون منظور، گالی دینا بھی جرم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم قانون ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی اسمبلی سے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کی منظوری کے بعد اب بل کا مسودہ سینیٹ میں پیش ہوگا، بل میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار دیا گیا۔
متن کے مطابق بیوی، بچے یا گھر میں موجوددیگر افراد کو جذباتی، نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا، مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔
خاتون اغوا کیس: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر اظہارِ برہمی
مسودے کے مطابق بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہوگا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا۔
متن میں کہا گیا ہے کہ بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی بھی قابل سزا جرم ہوگا، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے پر بھی سزا ہوگی، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والی دیگر فریق کا خیال نہ کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے 3 اجلاس 2 دسمبر کو ہوں گے
قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے ڈومیسٹک وائلنس بل میں جنسی اور معاشی استحصال کو بھی کور کیا گیا ہے، بل کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر جو ایک ساتھ رہتے ہوں ان پر ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی دیگر افراد گھر میں افراد کو کرنا بھی جرم ہوگا بھی جرم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔