بچوں کا امن ایوارڈ شام کی نوعمر سماجی کارکن کے نام
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
7 سال کی عمر میں شام کے تاریخی مگر محصور شہر حلب سے کیے گئے اپنے ٹوئٹس کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کرنیوالی 16 سالہ لڑکی کو جنگ سے متاثرہ بچوں کی وکالت پر کِڈز رائٹس پرائز سے نوازا گیا۔
2016 میں اپنے خاندان کے ساتھ ترکی منتقل کیے جانیوالی بانا العبد کو انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز ان کی ان کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا، جن میں خاندانوں کا دوبارہ ملاپ، اسکولوں کا دوبارہ کھلنا، اور غزہ، سوڈان، یوکرین اور شام جیسے جنگ زدہ علاقوں کے بچوں کے لیے امید فراہم کرنا شامل ہے۔
Today, I stood on the stage of the International Children’s Peace Prize, but I wasn’t alone.
— Bana Alabed (@AlabedBana) November 20, 2025
بانا العبد نے دنیا بھر میں مختلف کانفرنسوں میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، ترکی اور اردن کے پناہ گزین کیمپوں میں بچوں سے ملاقاتیں کیں، 2 کتابیں لکھیں، اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سمیت عالمی رہنماؤں کی جانب سے پذیرائی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں:
اس نے اسٹاک ہوم سٹی ہال میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق شامی صدر بشار الاسد، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، سوڈانی جنگی سرداروں اور دنیا بھر کے تمام جنگی رہنماؤں سے یہ سوال کرتی ہیں کہ کتنے بچوں کی زندگیوں اور خوابوں کو جنگوں نے، شہریوں کو مارنے والے جابرانہ نظاموں نے، جنگ کو سیاسی ایجنڈا بنانے والوں نے، اور سلامتی کے نام پر جارحیت کو جائز قرار دینے والوں نے چھین لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جان لیں کہ ان کے اعمال کا حساب ضرور ہوگا اور ہم ان کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے جنہوں نے خون کو اقتدار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
مزید پڑھیں:
میڈیا رپورٹس کے مطابق انعامی تقریب سے قبل بانا العبد نے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں کے بچوں کے لیے تعلیم کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی مدد کے لیے بہت سے امور ہیں، مگر سب سے بنیادی ضرورت تعلیم ہے۔ جب بچوں کو تعلیم ملتی ہے تو انہیں امید، مواقع اور ترقی کا راستہ ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں بچے وقت سے پہلے بڑے ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اپنے حالات کو ان کی عمر سے زیادہ جلد سمجھنے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
بانا العبد 2016 میں شام چھوڑنے کے بعد واپس نہیں گئیں، لیکن وہ اپنے ملک اور اس کے تعلیمی ڈھانچے کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام میں اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ بچے فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں، سردی ہے، نہ وائٹ بورڈ ہیں، نہ کتابیں۔
’نہ ہی ڈیسک ہیں، تعلیم کے لیے کوئی بنیادی سہولت موجود نہیں۔‘
مزید پڑھیں:
وہ ان 5,000 شامی بچوں کی بازیابی کے لیے بھی کام کر رہی ہیں جو جنگ کے دوران زبردستی اپنے خاندانوں سے جدا کر دیے گئے تھے اور اب تک لاپتا ہیں۔
نیڈر لینڈز میں قائم کِڈز رائٹس فاؤنڈیشن کے بانی مارک ڈیولارٹ نے بانا العبد کے حوصلے، ثابت قدمی اور انصاف کے لیے اٹل جدوجہد کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ناقابلِ تصور مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی کہانی کو ایک طاقتور وکالتی تحریک میں بدل دیا۔
واضح رہے کہ ماضی میں یہ ایوارڈ گریٹا تھنبرگ اور ملالہ یوسفزئی جیسی شخصیات کو بھی مل چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انصاف باناالعبد شام کِڈز رائٹس فاؤنڈیشن گریٹا تھنبرگ ملالہ یوسفزئی نیدرلینڈز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انصاف باناالعبد ک ڈز رائٹس فاؤنڈیشن گریٹا تھنبرگ ملالہ یوسفزئی نیدرلینڈز بانا العبد نے کہا کہ انہوں نے بچوں کی کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔